وفاقی دارالحکومت کے ناکوں پرجدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت کے ناکوں پرجدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی پولیس نے ریڈ زون سمیت وفاقی دارالحکومت کے ناکوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وفاقی دارالحکومت میں ناکوں پرجدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کرلیاگیا۔
پہلے مرحلے میں ریڈ زون کے چھ ناکے ڈیجیٹلائزڈ کر دیے گئے ہیں۔ ناکوں پر تعینات تمام پولیس اہلکارباڈی کیم کٹ لازمی استعمال کریں گے۔ذرائع کے مطابق شہری اب ویڈیو لنک کے ذریعے پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت بھی کر سکیں گے۔
آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر تمام ناکوں کا سیکیورٹی ڈیزائن تبدیل کیا جا رہا ہے۔تمام ناکوں سے روایتی بیریئرز ہٹا کر لین سسٹم نافذ کیا جائے گا۔سترہ ناکوں پر تعینات ان فٹ اہلکاروں کو ہیڈ کوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اب ناکوں پر پینتیس سال یا کم عمر کے پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسپیکر قومی اسمبلی کا سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ،بھارتی جارحیت میں زخمی فوجی جوانوں اور شہریوں کی عیادت کی اسپیکر قومی اسمبلی کا سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ،بھارتی جارحیت میں زخمی فوجی جوانوں اور شہریوں کی عیادت کی بیرن نے پاکستان کی اقتصادی میدان میں کارکرگی معاشی کرشمہ قرار دیدی آپریشن بنیان مرصوص میں زخمی مزید 2فوجی جوان شہید،تعداد 13ہوگئی وزیر اعظم اور آرمی چیف کا آپریشن بنیان مرصوص کی فرنٹ لائنز کا دورہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کاکوئی طریقہ کارموجود نہیں، صدرورلڈ بینک پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا خیرمقدم کرتے ہیں: سعودی ولی عہدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی دارالحکومت کا فیصلہ ناکوں پر
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔