UrduPoint:
2026-07-24@03:52:29 GMT

امریکی پابندیاں ختم، شام کا مستقبل کیا ہو گا؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

امریکی پابندیاں ختم، شام کا مستقبل کیا ہو گا؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 مئی 2025ء) اس ہفتے شامی عوام امید اور خوشی کے ساتھ ایک بار پھر ملک بھر کی سڑکوں پر جشن منانے کے لیے نکلے۔ اس خوشی کی وجہ بنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ وہ شام پر عائد سخت پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسد خاندان کے دور حکومت میں 45 سال تک شام عالمی سطح پر تنہائی کا شکار رہا۔

تاہم اس خاندان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنگ سے تباہ شام کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، ''اب ان کا وقت ہے۔ ہم تمام پابندیاں ہٹا رہے ہیں۔‘‘ اپنے تین روزہ دورہ سعودی عرب کے دوران منگل کے دن امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا، ''شام کے لیے نیک تمنائیں اور (شامیوں) ہمیں کچھ خاص کر کے دکھاؤ۔

(جاری ہے)

‘‘

شامی وزارت خارجہ نے اس اعلان کو ایک ''فیصلہ کن موڑ‘‘ اور ''شام کے لیے استحکام، خود انحصاری اور بامعنی قومی تعمیر نو کا ایک اہم موقع‘‘ قرار دیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام اب خود کریں گے۔

ابھی تفصیلات غیر واضح ہیں

یہ واضح نہیں کہ آیا پابندیوں میں نرمی مخصوص شعبوں، جیسا کہ بین الاقوامی انسانی امداد، بینکاری یا عام کاروبار تک محدود ہو گی یا امریکی پابندیوں کے خاتمے کو کچھ شرائط سے مشروط کیا جائے گا۔

یورپی یونین نے شام پر عائد کردہ کچھ پابندیاں پہلے ہی ختم کر دی ہیں۔ جمعرات کے روز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے تجویز دی کہ شام پر عائد دیگر پابندیاں بھی نرم کر دینا چاہییں۔

گزشتہ چھ ماہ میں شام میں بڑی تبدیلیاں

دسمبر میں حیات تحریر الشام (HTS) کے باغی گروپوں کے اتحاد نے شامی آمر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

اس گروپ کی قیادت احمد الشرع کر رہے تھے، جو اب ملک کے عبوری صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تقریباً 14 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد شام میں تعمیر نو کی لاگت 400 ارب ڈالر سے لے کر ایک ٹریلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

الشرع نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نئی حکومت میں شام کے تمام سیاسی اور مذہبی گروہوں کو شامل کریں گے۔ تاہم متعدد پرتشدد واقعات کی وجہ سے اب بھی خدشات موجود ہیں۔

اس تازہ تشدد نے اکثریتی سنی آبادی اور اقلیتی گروہوں کے درمیان تناؤ کو جنم دیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہے کہ نئی شامی حکومت کو ابھی تک ملک بھر میں مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہوا۔

مگر ٹرمپ کے بقول الشرع کے پاس ''ملک کو سنبھالنے کا سنہری موقع ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ''وہ ایک حقیقی لیڈر ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ الشرع ماضی میں القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند گروہوں سے بھی منسلک رہے ہیں۔

شرائط بھی منسلک؟

پابندیاں اٹھانے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے شام سے پانچ مطالبات بھی کیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے ان کی تفصیل یوں بتائی۔

اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے پر دستخط

تمام غیر ملکی دہشت گردوں کو شام سے نکالنا

فلسطینی دہشت گردوں کی ملک بدری

داعش کے دوبارہ ابھرنے سے روکنے میں امریکہ کی مدد

شمال مشرقی شام میں داعش کے حراستی مراکز کی ذمہ داری سنبھالنا

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شام ''حالات درست ہونے پر‘‘ اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

تاہم دمشق کی جانب سے سرکاری طور پر یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ وہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ابراہیم معاہدے میں شامل ہوگا یا نہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی اہمیت

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں شامی امور کے سینیئر تجزیہ کار نانر ہاوچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل شام کو غیر مستحکم کرنے والا کردار ادا کر رہا ہے۔

‘‘

انہوں نے کہا، ''وہ (اسرائیل) شامی فوجی تنصیبات پر سینکڑوں فضائی حملے کر چکا ہے اور جنوبی شام میں بھی دراندازی کی گئی ہے۔ جب تک کوئی مفاہمت نہیں ہو گی،اسرائیل کا یہ کردار جاری رہے گا۔‘‘

ہاوچ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات، الشرع پر اندرونی دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔ تاریخی طور پر شام اور اسرائیل ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور سن 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد کئی بار دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

ابھی تک اسرائیل نے نئی شامی حکومت کے ساتھ ممکنہ سفارتی تعلقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسرائیل کو شامی حکومت کے ایران اور حزب اللہ سے سابقہ تعلقات اور اپنی سرحدوں پر حملے کا خوف لاحق ہے۔ تاہم نئے سفارتی تعلقات شاید اسرائیل کے ان خدشات کو کم کر سکیں۔

شام دنیا کے بدترین پناہ گزین بحرانوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سن 2011 سے اب تک 1.

4 کروڑ سے زائد شامی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں، جن میں سے 60 لاکھ ملک سے باہر اور باقی اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں۔

ادارت: شکور خان

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسرائیل کے حکومت کے کے خاتمے کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم