اعلیٰ عسکری اور سول قیادت کا شہید اسکاڈرن لیڈر عثمان یوسف کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد: بھارت کے خلاف “معرکہ حق” میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اسکاڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اعلیٰ عسکری اور سول قیادت نے ان کے گھر کا دورہ کیا۔وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہید کے گھر پہنچ کر اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔اس موقع پر وزیرِاعظم اور آرمی چیف نے شہید کے عزم، فرض شناسی اور بہادری کو سراہتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔وزیرِاعظم نے کہا کہ قوم کو اپنے سپاہیوں کی قربانیوں پر فخر ہے اور سکاڈرن لیڈر عثمان یوسف جیسے بہادر بیٹے وطن کی مٹی کا فخر ہیں۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی راولپنڈی میں شہید کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔
انہوں نے شہید کے والد اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور دکھ کی اس گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔صدرِ مملکت نے کہا کہ ہمیں اپنے بہادر جوانوں کی قربانیوں پر فخر ہے، پوری قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لیڈر عثمان یوسف کی قربانیوں نے شہید کے کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔