پاکستان ریلوےکا1ہزار360ناکارہ مال بوگیاں اسٹیل ملزکوفروخت کرنےکافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
سعید احمد : پاکستان ریلوے نے اپنی 1,360 ناکارہ مال بوگیوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو اسٹیل ملز کو فروخت کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے اور پاکستان اسٹیل ملز کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ معاہدہ طے پانے کے بعد اسٹیل ملز کی جانب سے بوگیوں کی کٹنگ (کٹائی) کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
ریلوے حکام اور اسٹیل مل انتظامیہ کے درمیان فی کلوگرام قیمت پر مذاکرات جاری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ویگن کا وزن تقریباً 10 ٹن ہے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعہ16 مئی , 2025
واضح رہے کہ پاکستان ریلوے نے اس سے قبل بھی غیر فعال اثاثہ جات کو فروخت کر کے آمدنی حاصل کرنے کی کوششیں کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔