شام کا ڈیڑھ کروڑ ڈالر قرض سعودی عرب اور قطر نے اداکردیا. ورلڈبنک
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )عالمی بینک نے کہا ہے کہ شام پر واجب الاداد ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا قرض سعودی عرب اور قطر نے اداکردیا ہے جس کے بعد ورلڈ بنک 14 سال بعد شام میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے جارہا ہے ورلڈ بینک نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ شام اب اس کے کم آمدنی والے ممالک کے لیے مختص فنڈ کا مقروض نہیں رہا.
(جاری ہے)
عالمی بینک کا شام میں پہلا منصوبہ بجلی کی ترسیل اور رسائی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہوگا کیونکہ یہ طبی سہولیات، تعلیم اور پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے اہم ہے اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن شام پر عائد پابندیاں اٹھانا شروع کرے گا. امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں جی سی سی سربراہ اجلاس کے موقع پر شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کی تھی اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا اور یہ 25 سالوں میں دونوں ممالک کے راہنماﺅں کے درمیان اس طرح کی پہلی ملاقات ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔