ایرانی صدر کا فون، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئندہ ہفتے دورے کی دعوت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے جس کے دوران انہوں نے آئندہ ہفتے ایران کے دورے کی دعوت قبول کرلی۔
جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششوں، بحران کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ کو خطے میں بھیجنے پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ بھارت کے بلا اشتعال حملوں میں خواتین، بچوں اور معصوم شہریوں کی شہادت ہوئی ہے، پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم کی قاہرہ میں ایرانی صدر سے ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوتوزیراعظم شہباز شریف کی قاہرہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، دوطرفہ تجارت، معیشت اور دیگر امور پر گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ بھارت کے اس اقدام کو غیر قانونی اور پاکستان کے لیے سرخ لکیر سمجھتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو بتایا کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی کلید ہے۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تجارت، علاقائی روابط اور سلامتی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم آفس کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تہران کے سرکاری دورے کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دعوت قبول کرلی۔
واضح رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے ایران کے دورے پر جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ایران کے کے دوران
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔