دفتر خارجہ میں اہم تقرریوں کے لیے افسروں کے انٹرویو مکمل
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں قانونی شعبے میں اہم عہدوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ دفتر خارجہ میں اہم تقرریوں کے لیے اعلیٰ سطح کی مشاورت مکمل کرلی گئی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں قانونی شعبے میں اہم عہدوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت سلیکشن کمیٹی نے امیدواروں کا جائزہ لیا، سلیکشن کمیٹی میں سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری قانون و دیگر سینئر افسران شامل تھے۔ اسی طرح دفتر خارجہ وزارتِ خارجہ کے قانونی شعبے میں تقرریوں کے لیے میرٹ پر انٹرویوز کیے گئے اور اہم تقرریوں کے لیے اعلیٰ سطح مشاورت مکمل کر لی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تقرریوں کے لیے میں اہم
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔