پسند کی شادی نہ ہونے پر سگی ماں نے اپنے تین سالہ بیٹے کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
خانپور کے نواحی علاقے موضع قادر پور میں ماں کے ہاتھوں اپنے ہی تین سالہ معصوم بیٹے کے بہیمانہ قتل کی لرزہ خیز واردات سامنے آئی ہے.جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ تھانہ ظاہر پیر کی حدود میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں انسہ بی بی نامی خاتون نے اپنے جگر گوشے عمیر علی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش بند صندوق میں رکھ کر کمرے کی زمین میں دفنادی۔پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر تھانہ ظاہر پیر کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، جہاں زمین کھودنے پر صندوق میں سے تین سالہ مقتول بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ماں انسہ بی بی کو گرفتار کر لیا۔پولیس تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ خاتون انسہ بی بی کی اپنی پسند کی شادی نہ ہونے اور گھریلو لڑائی جھگڑوں کے باعث ذہنی دباؤ میں تھی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔