بھارتی ہیکرز فعال، ایس ای سی پی کا کمپنیوں کیلیے سائبر الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کی جانب سے بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے بعد بھارتی ہیکرز بھی فعال ہوگئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تمام رجسٹرڈ کمپنیوں کیلیے سائبر الرٹ جاری کردیا گیا.
مراسلہ میں کہا گیا کہ کمپنیاں بلند ترین جغرافیائی سیاسی صورتحال اور سائبر خطرے کے پیش نظر سائبر سیکورٹی کیلئے سخت اقدامات کریں ممکنہ سائبر حملے مالی معاملات کے الیکڑونک لین دین اور آپریشنل کام میں نقصان پہنچا سکتے ہیں.
سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اپنی رجسٹرڈ کمپنیوں کوہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی سسٹم کو ملٹی فیکڑ مضبوط کریں۔ ملازمین کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ یو آر ایل ایس کو غیرقانونی طورپر استعمال نہ کرسکیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی ہیکرز کی سائبر دہشتگردی کا سلسلہ جاری
غیرضروری کمیونیکیشن نہ کی جائے اور کسی بھی ایسے لنک کو کلک نہ کیا جائے جو کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آرہی ہو۔ اس سے کوئی بھی آپ کے سسٹم میں رسائی حاصل کرسکتاہے۔
علاوہ ازیں تمام کمپنیاں خطرے کی تشخیص اور اہم بنیادی ڈھانچے، ویب سائٹس اور پیچ کی شناخت کی حفاظتی کمزوریوں کی جانچ کا انعقاد کریں۔ جدید ترین اینٹی وائرس ٹولز اور فائر والز کو استعمال کریں۔
غیر معمولی رویوں کے لیے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔ آف لائن بیک اپ کو برقرار رکھیں اور واقعات سے بازیابی کے لیے ڈیٹا کی بحالی کو باقاعدگی سے درست کریں۔ ڈیوائس اور سسٹم میں سخت نظام لاگو کیا جائے۔ ایس ای سی پی کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔