پاک بھارت جنگ کے دوران تعاون پر اظہارِ تشکر، وزیراعظم شہباز شریف دوست ممالک کے دورے کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پاک بھارت جنگ کے دوران دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو فراہم کیے گئے تعاون پر اظہارِ تشکر کے لیے وزیراعظم شہباز شریف مختلف ممالک کے دورے کریں گے۔ وزیراعظم کے ان دوروں کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے جبکہ ان کے ترکیہ، آذربائیجان اور ایران جانے کا بھی امکان ہے۔ ان دوروں کے دوران وزیراعظم نہ صرف پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے بلکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اثرات پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم رواں ہفتے کے آخر یا آئندہ ہفتے ان اہم دوروں کا آغاز کریں گے تاکہ دوست ممالک کو براہِ راست پاکستان کی تشکر آمیز پالیسی سے آگاہ کیا جا سکے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔