خضدار حملے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ منظور، دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ میں بلوچستان کے علاقے خضدار حملے کیخلاف قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں خضدار بس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
قرارداد سینیٹر شاہ زیب درانی نے پیش کی جس کے متن میں لکھا گیا کہ یہ ایوان خضدار میں اسکول بس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ حملے میں اسکول کی طالبات اور اساتذہ شہید زخمی ہوئے ہیں۔
قرارداد کے مطابق یہ دہشت گردانہ کارروائی انڈیا نے اپنے پراکیسز کے ذریعے کرائی ہیں تاکہ پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے غیر مستحکم کیا جاسکے۔
قرارداد کے مطابق انڈیا پاکستان کے خلاف جنگ اور جارحیت میں برے طریقے سے ناکام ہونے کے بعد اپنی پراکیسز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرکے پاکستان میں خوف پھیلانے اور خطے کو غیر محفوظ کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔
ایوان نے معصوم بچوں پر ہونے والے حملے کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے شہید ہونے والے بچوں اور دیگر افراد کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔
قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان میں جاری دہشت گردانہ کاروائیوں اور بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔
قرارداد کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے تمام واقعات کی مذمت کرتا ہے اور اپنے وطن کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گا۔
ایوان بالا میں اراکین سینٹ نے خضدار میں بس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،