لاہور، مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے سالانہ امتحانات 2025 کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
سولہ امتحانی مراکز میں ملک کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس شامل ہیں، جنہوں نے اپنے طلباء و طالبات کو امتحانات میں شرکت کروائی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے امسال موسمِ گرما کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانی اوقات کو مختصر کیا گیا ہے تاکہ طلباء و طالبات کو سہولت میسر ہو اور وہ بروقت امتحانات مکمل کر کے اپنے گھروں کو روانہ ہو سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ سمیت ملک بھر میں مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے زیراہتمام سالانہ امتحانات 2025 کا آغاز مورخہ 24 مئی بروز جمعہ سے ہو چکا ہے۔ اس سال امتحانات کے انعقاد کیلئے ملک بھر میں 16 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں طلباء و طالبات کیلئے علیحدہ سہولیات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان مراکز میں ملک کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس شامل ہیں، جنہوں نے اپنے طلباء و طالبات کو امتحانات میں شرکت کروائی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے امسال موسمِ گرما کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانی اوقات کو مختصر کیا گیا ہے تاکہ طلباء و طالبات کو سہولت میسر ہو اور وہ بروقت امتحانات مکمل کر کے اپنے گھروں کو روانہ ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طلباء و طالبات کو
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔