اسلام آباد میں بکرا منڈیوں کی نیلامی سے ریکارڈ آمدن، 55 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد میں بکرا منڈیوں کی نیلامی سے ریکارڈ آمدن، 55 فیصد اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے شعبہ ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے)کی جانب سے یومِ عیدالاضحیٰ 2025 کے موقع پر بکرا منڈیوں کی نیلامی سے حکومتی خزانے کو ریکارڈ آمدنی حاصل ہوئی، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 55 فیصد زائد رہی۔
ڈی ایم اے حکام کے مطابق، بکرا منڈیوں کی نیلامی کا عمل مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ انداز میں مکمل کیا گیا، تاکہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ آمدن ہو اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں عوام کی سہولت کے لیے چھ (6) باقاعدہ بکرا منڈیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان منڈیوں میں مویشیوں کی صحت کی جانچ کے لیے لائیو اسٹاک اور ہیلتھ ٹیمیں، جبکہ صفائی کے لیے سینیٹیشن عملہ مسلسل ڈیوٹی پر مامور ہے۔
نیلامی سے حاصل شدہ آمدنی کی تفصیلات:
سنگجانی منڈی: 47 ملین روپے
سیکٹر آئی-12: 52.
سلطانہ فاؤنڈیشن: 6.5 ملین روپے
ضیاء مسجد: 5.1 ملین روپے
بھارہ کہو: 1.51 ملین روپے
سیکٹر آئی-15: 1.23 ملین روپے
ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “نیلامی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف رکھا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ آمدن ہو اور عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی بکرا منڈیوں کے قیام کی روک تھام کے لیے ڈی ایم اے کی انفورسمنٹ ٹیمیں مختلف علاقوں میں مسلسل گشت کر رہی ہیں، اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
یہ تمام اقدامات عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کی سہولت، صفائی کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرارتھنگ: فطرت کے لمس میں شفا دوست ممالک کے دورے: وزیراعظم ایران کے بعد آذربائیجان پہنچ گئے آفیسرز عید الاؤنس سے محروم ، ایسوسی ایشن دباؤ کا شکار، چیئرمین سی ڈی اے سے نظر ثانی کی پکار،ویڈیو پیغام و دستاویز سب... آفیسرز عید الاؤنس سے محروم ، ایسوسی ایشن دباؤ کا شکار، چیئرمین سی ڈی اے سے نظر ثانی کی پکار،ویڈیو پیغام و دستاویز سب... اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی ہائی الرٹ، قیدی وین اور بکتربند گاڑی پہنچا دی گئی آج سے 31 مئی تک آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان پنجاب میں سولر پینلز کی تنصیب کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد نیلامی سے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر