علی امین گنڈاپور کا اسلحہ سے متعلق بیان کھلی بغاوت کے مترادف ہے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا علی بابا چالیس چوروں کے قبضے میں ہے، کوہستان میں 40 ارب روپے کا سکینڈل آیا، کوئی انکوائری نہیں، سولر منصوبے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں، کوئی جوابدہی نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کا اسلحہ سے متعلق بیان کھلی بغاوت کے مترادف ہے، گورنر کے پی ریاست کے خلاف بات کرنے والا عوامی نمائندگی کا اہل نہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاستی اداروں کے خلاف بیان قابلِ گرفت ہے، کارروائی ہونی چاہئے، علی امین گنڈاپور کی زبان ریاستی وحدت اور آئین کے خلاف ہے، افغان مہاجرین کی واپسی پر بھی وزیراعلیٰ نے گندی سیاست کی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاک فوج کی فتح پر سوشل میڈیا پر مہمات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پناہ ملتی ہے، پُرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ فسطائیت کی بدترین مثال ہے، پشاور میں احتجاج پر حملہ بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا علی بابا چالیس چوروں کے قبضے میں ہے، کوہستان میں 40 ارب روپے کا سکینڈل آیا، کوئی انکوائری نہیں، سولر منصوبے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں، کوئی جوابدہی نہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گریڈ 4 کی نوکریاں برائے فروخت، اساتذہ کے ٹیسٹ وزیروں کے گھروں میں، ایسی حکومت آئینی اور عوامی اعتماد کھو چکی ہے، ریاست پاکستان ناقابلِ تقسیم ہے، قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔