کے پی اور بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
گورنر ہاؤس پشاور میں امریکی نژاد پاکستانی انجنیئر ذیشان شاہد، کینیڈا کے ہائی کمیشن میں ٹریڈ کمشنر ذوہیب احمد خان اور معروف سماجی شخصیت احتشام سمیت ایک وفد نے فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، تیل اور گیس سمیت دیگر قدرتی وسائل سے بھرپور ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا کر ملک کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور میں امریکی نژاد پاکستانی انجنیئر ذیشان شاہد، کینیڈا کے ہائی کمیشن میں ٹریڈ کمشنر ذوہیب احمد خان اور معروف سماجی شخصیت احتشام سمیت ایک وفد نے فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ وفد کی ملاقات کے دوران ملک میں توانائی کے مختلف شعبوں، خاص طور پر گرین انرجی، مائننگ اور آئل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان میں قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر توانائی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی اور معدنیاتی علاقوں میں قیمتی دھاتوں اور معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، جن کی تلاش اور ترقی سے مقامی روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ گورنر کے پی نے گرین انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا کے طلبہ کے لیے بیرون ممالک اسکالر شپ کے حصول اور سیلاب متاثرین کو سہولیات کی فراہمی کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا موجود ہیں
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔