ہمیں اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل بند کر دینی چاہیئے، امریکی رکن کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
امریکی ایوان نمائندگان میں ریاست کینٹکی کے نمائندے نے قابض اسرائیلی رژیم کیلئے اپنے ملک کیجانب سے مہلک ہتھیاروں کی ترسیل پر مبنی اندھی اسلحہ جاتی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ غزہ میں "دسیوں ہزار خواتین و بچوں" پر مشتمل عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد کو کوئی بھی چیز، جواز فراہم نہیں کر سکتی!! اسلام ٹائمز۔ غزہ کی پٹی میں جاری غاصب و سفاک اسرائیلی رژیم کے سنگین جنگی جرائم پر اس کے اندھے حامی امریکہ کے رکن کانگریس کو بھی بولنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں امریکی رکن کانگریس تھامس میسی (Thomas Harold Massie) نے تاکید کی کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد (جو دسیوں ہزار خواتین و بچوں پر مشتمل ہے) کو کوئی بھی چیز، جواز فراہم نہیں کر سکتی!! گذشتہ 2 سالوں سے جاری قابض صیہونی رژیم کے انسانیت سوز اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی رکن کانگریس نے تاکید کی کہ ہمیں (امریکیوں کو) اسرائیل کے لئے تمام امریکی فوجی امداد فوری طور پر بند کردینی چاہیئے۔ تھامس میسی کے اس بیان کو نہ صرف امریکی عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی بلکہ اس بیان کے باعث، دیکھتے ہی دیکھتے اس امریکی نمائندے کا نام، ایکس پلیٹ فارم کے ٹرینڈ (Trend X) میں بھی بدل گیا۔
امریکی عوام نے تھامس میسی کی پوسٹ کو کئی مرتبہ شیئر کیا اور لکھا ہے کہ اسرائیل کے لئے اسلحہ جاتی حمایت بند کرنا "امریکی عوام کا مطالبہ" ہے۔
امریکی صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف اپنی فوجی امداد کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو دی جانے والی اپنی دیگر تمام امدادیں بھی فوری طور پر بند کر دے بلکہ قابض صیہونی رژیم سے اپنے ہر قسم کے تعلقات کو بھی منقطع کر دے۔
اس بارے ایک دوسرے صارف کا لکھنا تھا کہ اس نسل کشی کے خاتمے کا وقت اب آن پہنچا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رکن کانگریس صیہونی رژیم کے لئے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔