پی ٹی وی انتظامیہ نے نئی حکومت کوخوش کرنے کیلئے فواد چوہدری کے نام کی تختی ہٹادی لیکن وزیراطلاعات عطا تارڈ کو پتہ چلا تو انہوں نے کیا کیا؟ فواد چوہدری بھی سراہنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں کسی کے نام کی تختی لگانا یا اکھاڑنا کوئی نئی بات نہیں، ایسا بھی کچھ پی ٹی وی میں ہوا اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری کے نام کی یادگاری تختی ہٹادی گئی لیکن جب موجودہ وزیراطلاعات کو پتہ چلا تو انہوں نے نہ صرف دوبارہ تختی لگوائی بلکہ فواد چوہدری سے رابطہ بھی کیا جس پر انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ایک پیغام بھی جاری کردیا۔
فواد چوہدری نے لکھا کہ ’ مجھے پی ٹی وی میں کانفرنس روم کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تاہم، حکومت میں تبدیلی کے بعد، بظاہر نئی قیادت کو خوش کرنے کے لیے یادگاری تختی کو ہٹا دیا گیا۔ اس کا علم ہونے پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تختی دوبارہ لگوانے کے لیے فوری ایکشن لیا اور فواد چوہدری کو ٹیلی فون بھی کیا ‘‘۔
بھارت کی دفاعی اور سفارتی ناکامیوں پر ملک میں تنقید میں اضافہ
سابق وزیراطلاعات نے مزید لکھا کہ ’’موجودہ سیاسی ماحول میں احترام اور تہذیب کے ایسے اشارے بہت کم ملتے ہیں، میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا ان کی تدبر اور شائستگی کے لیے تہہ دل سے مشکور ہوں‘‘۔
I had the honour of inaugurating a conference room at PTV; however, following a change in government, the commemorative plaque was removed—apparently to appease the new leadership.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فواد چوہدری
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔