جب تک خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت نہ ہو کرپشن ختم نہیں ہو سکتی، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پشاور: جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کے پی میں پیپلز پارٹی کا احتجاج کرپشن کےخلاف نہیں بلکہ اس لئے تھا کہ ان کا ریکارڈ کیوں توڑا، جب تک کے پی میں ہماری حکومت نہ ہو کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری کردار کشی کی گئی مگر ہمارے خلاف ایک ایف آئی آر تک درج نہ کر سکے۔ان کا کہنا ہے کہ آج ملک میں آئین کو پامال کیا جا رہا ہے، حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، مختلف شہروں میں جلسے منعقد کریں گے، 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں بہت بڑا اجتماع کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، عملی طور پر میدان میں اتریں گے، اب ایک موضوع پر جلسے نہیں ہوں گے، تحریک آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے احتجاج کرپشن کے خلاف نہیں کیا، پیپلز پارٹی نے اپنا کرپشن کا ریکارڈ ٹوٹنے کے خلاف احتجاج کیا تھا، اگر کرپشن ہوئی ہے تو صرف الزام تراشی کافی نہیں، عدالتی کارروائی کی جائے، 40 ارب روپے کی کرپشن کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی ف کم عمر کی شادی کے بل کو مسترد کرتی ہے، آئین کی رو سے قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، جے یو آئی چائلڈ میرج ایکٹ کی قانون سازی کو مسترد کرتی ہے، دین میں شادی کے لئے عمر کی حد نہیں بلوغت کی شرط مقرر کی گئی ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مودی کی حماقتوں کی وجہ سے خطے کو ایک جنگ میں الجھا دیا گیا ہے، دنیا میں نائن الیون کے بعدا یک محوریت آئی، اب ہم ایک نئی جنگ میں داخل ہو چکے ہیں، جے یو آئی کی تجویز یہی ہے کہ ایشیاءکو مضبوط کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جارحیت کے امکانات موجود ہیں، بھارتی حکمران کی حماقتوں کی وجہ سے خطے کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، افغانستان اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں، مودی کی حماقت کی وجہ سے کشیدگی بڑھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو ا ئی کو مسترد
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔