جنوبی ایشیا میں موجود تنازعات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، جنرل ساحرشمشادکا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کے خطرات میں کسی بھی ابہام کو ختم کرسکیں
تنازع کشمیرموجود ہے ، علاقائی اختلافات دبانے سے حل نہیں کیے جاسکتے، خطاب
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردارکیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ایسے بہت سے تنازعات ہیں جو کبھی بھی قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ تنازع کشمیر موجود ہے ۔سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد دنیا کے رکھوالوں نے خود ہی ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق، عالمی قانون اور انصاف کی قدروں کو پامال کر دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ طاقت اور مفاد، اخلاقیات اور اصولوں سے بالاتر ہوگئے ہیں، ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کے خطرات میں کسی بھی ابہام کو ختم کرسکیں۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے انہیں حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی فضا میں کوئی میکنزم کام نہیں کرتا، پائیدار کرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، ریڈ لائن کی پاسداری اور مساوات کی ضرورت ہوتی ہے ۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ جب تک بنیادی اسٹیک ہولڈرز کمزور سمجھے جائیں، کوئی فریم ورک کامیاب نہیں ہوسکتا، استحکام کا حصول شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈہاک رسپانسز ناکافی ہیں، ہمیں ادارہ جاتی پروٹوکول، ہاٹ لائنز کی ضرورت ہے ۔ کشیدگی میں کمی کے طے شدہ طریقہ کار اور مشترکا کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی ضرورت ہے کہا کہ
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے