WE News:
2026-07-24@14:48:41 GMT

بلوچستان میں 85 فیصد غیر فعال اسکول فعال

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

بلوچستان میں 85 فیصد غیر فعال اسکول فعال

بلوچستان میں غیر فعال اسکولوں کی بحالی کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان کے مطابق صوبے بھر میں اب تک 3,387 میں سے 2,864 اسکولوں کو فعال بنایا جا چکا ہے، جو کہ مجموعی تعداد کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بھارتی ایجنسی کی کٹھ پتلی تنظیم کے 7 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

باقی ماندہ 523 اسکول اب بھی غیر فعال ہیں، جنہیں جلد فعال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ اعداد و شمار صوبائی وزیر تعلیم کو پیش کی گئی ایک باضابطہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکولوں کو فعال بنانے کا یہ عمل سیکریٹری سیکنڈری ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آف ایجوکیشن (اسکولز) کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے زرعی شعبے میں سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام سے متعلق بل پر سفارشات منظور

اسکولوں کو فعال کرنے کے لیے رینشلائزیشن، کنٹریکٹ اپائنٹمنٹس اور ایس بی کے کے تحت اساتذہ کی تعیناتی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  موجودہ وزیر تعلیم نے وزارت کا چارج سنبھالا، تو صوبے بھر میں3,387 اسکول غیر فعال تھے۔ اب تک جن 2,864 اسکولوں کو فعال بنایا گیا ہے ان میں پرائمری اسکول۔2,835، مڈل اسکول 26، ہائی اسکول فعال کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، پشین وہ ضلع ہے جہاں سب سے زیادہ غیر فعال اسکول تھے کل 245 جن میں سے 222 کو فعال کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف، کیچ اور قلعہ سیف اللہجیسے اضلاع اب بھی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں بالترتیب 102 اور 157 اسکول تاحال غیر فعال ہیں۔کچھی، قلات، خضدار، کوہلو، واشک، زیارت اور دیگر کئی اضلاع میں 100 فیصد اسکول بحال کر دیے گئے ہیں۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان کے مطابق باقی رہ جانے والے 523 اسکولوں کو بھی جلد از جلد فعال بنانے کا منصوبہ زیر عمل ہے تاکہ ’ہر بچہ اسکول میں‘ کے وژن کو عملی شکل دی جا سکے۔

رپورٹ کے ساتھ فعال اور غیر فعال اسکولوں کی تفصیلی فہرست بھی منسلک کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکول بلوچستان ڈائریکٹر ایجوکیشن (اسکولز) محکمہ تعلیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکول بلوچستان ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز محکمہ تعلیم اسکولوں کو فعال غیر فعال اسکول کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی

اسلام آباد:

حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے ترقیاتی قرضوں پر مارک اپ کی حتمی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی۔

وزارت خزانہ نے اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24ء میں مارک اپ کی شرح 17.84 فیصد جبکہ 2024-25 میں 17.74 فیصد رہی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، مالیاتی و غیر مالیاتی اداروں اور دیگر کارپوریشنوں کے ترقیاتی قرضوں پر 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ لاگو ہوگا، وفاقی حکومت کے کمرشل محکموں کے کیپیٹل آؤٹ لیز پر بھی مالی سال 2025-26 کے لیے 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح گاڑی اور گھر کی تعمیر کے لیے قرضوں اور ایڈوانسز پر بھی مالی سال 2025-26 کے دوران 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ وصول کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق