لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی نئی ٹیکس قواعد کی لاگو کرنے میں بدانتظامی نے ملک کے تاجروں میں شدید الجھن پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ایف بی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایس آراو 55 برائے2025 جو یکم مارچ 2025 سے تمام تاجروں بشمول درآمد کنندگان، تاجروں اور ہول سیلرز سے ان کے اسٹاک کی تفصیلات اینیکس ایچ ون فارم میں جمع کروانے کا تقاضا کرتا ہے.

اس حوالے سے ایف بی آر کی طرف سے کسی قسم کی ہدایات یا رسمی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔

امریکی ڈیل کی تجویز مسترد، ایران کے سپریم لیڈر کا یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا اعلان

پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ نئے ٹیکس قواعد نے تاجروں کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر گئی ہے کیونکہ اکثر تاجروں نے مارچ 2025 کی ریٹرنز اینیکس ایچ ون جمع کرائے بغیر فائل کیں کیونکہ ایف بی آر نے واضح نہیں کیا کہ اینیکس ایچ ون کب اور کیسے فائل کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں اپریل 2025 کی ریٹرنز میں تاجروں کو اپنا اوپننگ اسٹاک ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاجروں کی بارہا درخواستوں کے بعد ایف بی آر نے اینیکس اے اور سی میں تبدیلی کرنے یا کمشنر کی منظوری لینے کی شرط کے بغیر ریٹرنز میں ترمیم کی اجازت دی ۔

جرمنی میں دوسری جنگ عظیم کے 2 امریکی بم برآمد، علاقہ خالی کرالیا گیا،  20 ہزار لوگ محفوظ مقام پر منتقل 

سلیم ولی محمد نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی نئے ایس آر او کے اجراء سے پہلے متعلقہ تجارتی ایسوسی ایشنز اور ٹیکس دہندگان کو واضح اور بروقت ہدایات فراہم کرے تاکہ ایسی الجھن دوبارہ پیدا نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ تاجروں کو اب بھی مارچ 2025 کی ریٹرنز میں ترمیم اور اپریل 2025 کے سیلز ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جون کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے زور دیا کہ جیسے مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز کو اینیکس ایچ جمع کروانے کے لیے 120 دن کا وقت دیا جاتا ہے ویسے ہی تاجروں کو اپنی ریٹرنز فائل کرنے کے بعد 60 سے 90 دنوں کے اندر اینیکس ایچ ون جمع کروانے کی سہولت دی جائے۔

محمد رضوان سے کپتانی واپس لیے جانے کا امکان، نجی نیوز چینل کا دعویٰ

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پی سی ڈی ایم اے اینیکس ایچ ون جمع کروانے تاجروں کو ایف بی آر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے