شملہ معاہدہ منسوخ نہیں کیا گیا، وزارت خارجہ کی خواجہ آصف کے بیان کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
وزرات خارجہ نے واضح کیا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ تاحال موجود ہے، یہ معاہدہ منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شملہ معاہدے پر ابھی تک عملدرآمد جاری ہے، اس حوالے سے زبانی بیان ضرور آتے ہیں تاہم تحریری طور پر ایسی کوئی بات موجود نہیں کہ جس سے ظاہر ہو کہ یہ معاہدہ منسوخ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے مذاکرات میں پاکستان کن 3 اہم موضوعات پر زور دے گا؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتادیا
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے، ہم امن چاہتے ہیں، لیکن اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پہلے سے بڑھ کر جواب دیا جائےگا۔
خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ فارغ ہوگیا اور ہم 1948 والی پوزیشن پر واپس آگئے ہیں۔ اب لائن آف کنٹرول لائن کو سیز فائر لائن سمجھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:شملہ معاہدہ فارغ ہوگیا، اب لائن آف کنٹرول کو سیز فائر لائن سمجھا جائے، وزیر دفاع خواجہ آصف
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2 جولائی 1972 پر ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جسے شملہ معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو جبکہ ہندوستان کی جانب سے اندراگاندھی نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے باہمی مسائل پرامن انداز میں مذاکرات سے حل کریں گے، معاہدے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت پاکستان خواجہ آصف دفتر خارجہ شملہ معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان خواجہ ا صف دفتر خارجہ شملہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ خواجہ ا صف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔