آبی ذخائر بڑھانے کیلئے کمیٹی قائم، 72 گھنٹے میں رپورٹ دیگی
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبوں سمیت تمام وفاقی اکائیوں کو ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے مل کر کام کرنا ہوگا۔ غیر متنازعہ ذخائر کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ نئے ڈیمز کی تعمیر تمام صوبوں کے اتفاق سے ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت آبی وسائل سے متعلق امور پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی آبی جارحیت ہے۔ معرکہ حق کی طرح بھارت کو اس کی آبی جارحیت کا نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے 24 اپریل کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کے تحت جواب دیا جائے گا اور پاکستان اس معرکہ میں بھی فتح سے ہمکنار ہو گا۔ بھارت کو حالیہ جنگ میں بدترین شکست ہوئی جس پر اس نے سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ اب بھارت کا پانی پر بھی غرور خاک میں ملائیں گے۔ وفاقی حکومت اور صوبوں سمیت تمام وفاقی اکائیوں کو ملک میں نئے پانی کے ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے مل کر کام کرنا ہے۔ اجلاس میں نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بیان کے مطابق چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے یک زبان ہو کر بھارت کی آبی جارحیت کی مذمت کی اور اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بنیان مرصوص بن کر ملک کی آبی سکیورٹی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے ملک میں نئے آبی ذخائر بنانے اور ان کی فنڈنگ کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ کمیٹی نئے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے فنڈنگ کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے گی اور اس حوالے سے سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی وزراء شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو ملک میں آبی وسائل اور دریائوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے جسے 2032 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ مہمند ڈیم 2027 ء تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت ملک میں 11 ڈیمز ہیں جن کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 15.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔