ایلون مسک کیساتھ تعلقات ختم ہوچکے، اب اس سے بات کرنیکا کوئی ارادہ نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
میڈیا کیساتھ انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انکا دنیا کے امیر ترین شخص کیساتھ رشتہ ختم ہوچکا ہے اور اب وہ اسکو ٹھیک کرنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ ایلون مسک سے بات کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ایلون مسک کے ساتھ تعلقات ختم ہوچکے ہیں، اگر مسک ڈیموکریٹس کو فنڈ دیتے ہیں تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے۔ ایک سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا دنیا کے امیر ترین شخص کے ساتھ رشتہ ختم ہوچکا ہے اور اب وہ اس کو ٹھیک کرنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ ایلون مسک سے بات کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ یا اسپیس ایکس راکٹ لانچ کمپنیوں کے ساتھ امریکی حکومت کے معاہدوں کو ختم کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔