عاقب جاوید کا ویمنز کرکٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے اہم اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ویمنز کرکٹ پر مکمل توجہ کی ضرورت ہے اور کراچی کا ہائی پرفارمنس سینٹر خواتین کرکٹرز کے لیے مختص ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیڈ کوچ سے ہٹنے کے بعد عاقب جاوید کو کونسی نئی ذمہ داری مل گئی؟
پی سی بی کے آفیشل پوڈکاسٹ میں وہاب ریاض سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملتان میں انڈر 19، فیصل آباد میں انڈر 17 اور سیالکوٹ میں انڈر 15 کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے مخصوص مراکز قائم کیے جائیں گے جنہیں مقامی کالجز سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی سہولیات کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور بائیو مکینکس لیب کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا طویل مدتی پروگرام انڈر 15 اور انڈر 17 کرکٹرز پر مشتمل ہو گا جس کے نتائج ڈیڑھ سے 2 سال میں متوقع ہیں۔
عاقب جاوید نے اعلان کیا کہ ڈسٹرکٹ اور ریجن کی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والے 30 باصلاحیت نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے گا جنہیں ایک منظم انداز میں تربیت دی جائے گی۔
ان کا اولین مقصد نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ پاکستان کرکٹ کا سسٹم دنیا کے لیے ایک مثال بن جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم دوسروں کی تقلید نہیں کریں گے بلکہ ہماری ترقی دوسروں کو ہماری تقلید پر مجبور کرے گی۔
عاقب جاوید نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی بہتری کے لیے اپنے مختصر اور طویل المدتی منصوبے تفصیل سے بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کوچ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو عزت دے، نہ کہ ان سے خود جیسا بننے کی توقع رکھے۔
مزید پڑھیے: عاقب جاوید پاکستانی ٹیم سے پُر امید کیوں؟
انہوں نے کہا کسی بھی ملک کی کرکٹ کی ترقی میں نیشنل اکیڈمی کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ جب پاکستان میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی بند کی گئی تو وہ شدید مایوسی میں متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے جہاں ان کی کوچنگ میں یو اے ای نے انڈر 19 ورلڈ کپ، ٹی 20 ورلڈ کپ اور ففٹی اوورز ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔
عاقب جاوید نے بتایا کہ لاہور قلندرز سے وابستگی کی وجہ اس کا ترقیاتی پروگرام تھا۔ انہوں نے صرف پی ایس ایل کے دنوں کے لیے کوچنگ کو قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق کوچنگ کا سب سے بڑا صلہ یہ ہے کہ کسی کھلاڑی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے اور اس کے علاقے میں کرکٹ کا فروغ ہو۔
عاقب جاوید نے کہا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا کردار واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے آج کے دور میں ٹیم کو تینوں شعبوں (بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ) میں مہارت رکھنے والے کھلاڑی درکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمی کے لیے مخصوص نصاب (سلیبس) تیار کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان میں اچھے کوچز نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: ’وہ ایک مسخرا ہے‘، جیسن گلیسپی کی ہیڈ کوچ عاقب جاوید پر کڑی تنقید
ان کے مطابق دنیا کے ہر ملک میں بیرونی کوچز آتے رہے ہیں لیکن پی سی بی اب مقامی کوچز، امپائرز، کیوریٹرز، ٹرینرز اور فزیوز کی ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دے گا تاکہ ان کا دائرہ کار اور اعتماد بڑھے۔ لیول تھری کوچنگ مکمل کرنے والے کوچز کو کسی ایک شعبے میں اسپیشلائزیشن لازمی کرنا ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کے نوجوان کرکٹرز عاقب جاوید ویمنز کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کے نوجوان کرکٹرز عاقب جاوید ویمنز کرکٹ نیشنل کرکٹ اکیڈمی عاقب جاوید نے انہوں نے کہا نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔