Islam Times:
2026-07-24@08:51:16 GMT

بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کل طلب

اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT

بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کل طلب

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایک رات میں سب کچھ تبدیل نہیں کیا جا سکتا کچھ وقت درکار ہے، ہر کوئی تسلیم کر رہا ہے ملکی معیشت میں بہتری آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے ملک آگے بڑھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ مالی سال 26-2025ء کا وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ کیلئے قومی اسمبلی اجلاس کے شیڈول کی منظوری دے دی ہے۔ شیڈول کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جبکہ 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا، 13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث ہوگی، پارلیمانی جماعتوں کو بجٹ کیلئے وقت دیا جائے گا۔

وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون تک جاری رہے گی اور 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔ 23 جون کو مالی سال 26-2025 کیلئے مختص ضروری اخراجات پر بحث ہوگی جبکہ 24 اور 25 جون کو مطالبات، گرانٹس اور کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی، فنانس بل کی منظوری 26 جون کو قومی اسمبلی سے لی جائے گی، مزید برآں 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی کے شیڈول سیشن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ان کی اجازت سے مشروط ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک رات میں سب کچھ تبدیل نہیں کیا جا سکتا کچھ وقت درکار ہے، ہر کوئی تسلیم کر رہا ہے ملکی معیشت میں بہتری آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے ملک آگے بڑھے گا، ملکی معیشت میں جو استحکام آیا ہے اس کو آگے لے کر جائیں گے، کئی اقدامات ایسے کریں گے جس میں ریلیف اور گروتھ کا عنصر شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جون کو قومی اسمبلی وفاقی بجٹ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن