غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری، شہداء کی تعداد 55 ہزار سے تجاوز کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ : اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 سے جاری غزہ پر تباہ کن اور انسانیت سوز حملوں میں اب تک کم از کم55 ہزار 104 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 123 شہداء کی لاشیں اسپتالوں میں لائی گئیں جبکہ 474 افراد زخمی ہوئے، یوں اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 27 ہزار394 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابھی بھی بے شمار افراد ملبے تلے اور سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، جن تک امدادی کارکن نہیں پہنچ پا رہے، اسرائیلی دردنگی کی وجہ سے مریضوں کی بھی صحیح طریقے سے دیکھ بھال نہیں ہو پارہی ، جس کی وجہ سے اموات میں آئے روز تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے بعد 18 مارچ کو ایک بار پھر غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 4,821 فلسطینی شہید اور15 ہزار535 زخمی ہو چکے ہیں، یہ کارروائیاں اُس جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو جنوری میں نافذ العمل ہوا تھا۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے اسرائیلی حملوں کو انسانیت کے خلاف جرائم اور ممکنہ نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسی طرح عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں بھی اسرائیل کے خلاف نسل کشی (Genocide) کے الزامات کے تحت مقدمہ زیرِ سماعت ہے، جس میں غزہ میں جاری قتل عام کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو جنگی جرائم سے باز رکھا جائے، انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کی جائے اور غزہ کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاہم اسرائیلی جارحیت تاحال جاری ہے اور مظلوم فلسطینی شہری شدید انسانی بحران سے دوچار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔