مسجد الحرام میں گمشدہ حجاج کے لیے 6 زبانوں میں رہنمائی کی سہولت فراہم
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2025ء) ادارہ امور حرمین شریفین نے مسجد الحرام میں گمشدہ حجاج کی آسانی کے لیے 6 عالمی زبانوں میں رہنما مراکز کی سہولت فراہم کی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق مسجد الحرام کی انتظامیہ کی جانب سے حج کے بعد مکہ مکرمہ میں آنے والے لاکھوں حجاج کو مختلف نوعیت کی خدمات فراہم کی جارہی ہیں جن میں گمشدہ حجاج کو رہنمائی فراہم کرنے کی خدمت بھی شامل ہے۔
(جاری ہے)
امسال رہنمائی مراکز میں عربی ، انگلش سمیت متعدد زبانوں کے ماہرین کی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ مسجد الحرام میں موجود حجاج کی رہنمائی ان کی زبان میں کی جاسکے۔ حرمین اتھارٹی نے کہا ہے کہ مراکز کے اہلکار مسجد الحرام کے داخلی اور خارجی دروازوں کے علاوہ بیرونی صحنوں اور مختلف مقامات پر موجود ہوتے ہیں جو گمشدہ حجاج کی ہر طرح رہنمائی کرتے ہیں ۔ مرکز کے اہلکاروں کے پاس موجود جدید ترین ڈیوائسز ہیں جن کے ذریعے وہ حجاج کے نسک کارڈ میں موجود کیو آر کوڈ یا بار کوڈ سکین کرکے ان کی رہائش کا مقام معلوم کرلیتے ہیں جس کے بعد انہیں وہاں باآسانی پہنچا دیا جاتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مسجد الحرام
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔