ایک احتجاج کرتی7مقدمات ہوجاتے،26ویں ترمیم سے پوری عدلیہ کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے، عالیہ حمزہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ٰراولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 جون2025ء)پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ 26 ویں ترمیم سے پوری عدلیہ کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ حکمران عوامی حمایت سے آئے ہوتے تو یوں لیلے کی طرح رسی سے نہ چلتے ۔عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف پنجاب کی آرگنائزر عالیہ حمزہ نے کہا کہ ہم ایک احتجاج کرتے ہیں تو 7 مقدمات بن جاتے ہیں۔
ایک دن راولپنڈی دوسرے دن سرگودھا کی عدالتوں میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیری بلاسم ، اردلی اور اب لیلا کا سفر بہت دلچسپ ہے۔ حکمران عوامی حمایت سے آئے ہوتے تو یوں لیلے کی طرح رسی سے نہ چلتے ۔ اس سال شدید مہنگائی باعث قربانی 30 فیصد کم ہوئی ہے۔گفتگو میں عالیہ حمزہ نے کہا کہ یہ عدالتیں خود قید ہیں ہمیں کیا انصاف دیں گی۔(جاری ہے)
کبھی جج چھٹی پر تو کبھی پراسیکیوٹر غائب ہوجاتا ہے ۔
آپ نے 26 ویں ترمیم سے پوری عدلیہ کو چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ ہم رول آف لا کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کی شکل میں عذاب قوم پر مسلط کیا گیا ہے۔ایک کروڑ 80 لاکھ نوجوان آج بے روزگار ہیں۔ بجٹ نے تباہی پھیر کر رکھ دی ہے۔ اب ہم قوم اور کسانوں کے پاس جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ پنجاب اسمبلی کے باہر فارم 45 کی اسمبلیاں لگائیں گے۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ تحریک انصاف پرامن سیاسی جماعت ہے، 126 دن کے دھرنے میں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا تھا۔ ہم پرامن رہ کر دنیا کو بتائیں گے کہ ہم آئین اور قانون کی سربلندی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قید عدلیہ کو بھی آزاد کرائیں گے اور جمہوریت بھی بحال کرائیں گے۔ 26 نومبر کو ہم پر گولیاں برسائی گئیں۔ سمبڑیال میں احتجاج کر رہے تھے تو تمام لائٹیں بجھا دی گئیں، ہم نے احتجاج ختم کر دیا۔قبل ازیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو 26 نومبر احتجاج کے کیسز میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس پر عدالت نے عبوری ضمانت میں 27 جون تک توسیع کردی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالیہ حمزہ نے کہا کہ عدلیہ کو چھٹی پر گیا ہے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔