UrduPoint:
2026-07-24@10:14:16 GMT

دبئی کی بلند و بالا رہائشی عمارت میں آتشزدگی

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

دبئی کی بلند و بالا رہائشی عمارت میں آتشزدگی

دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون 2025ء ) دبئی مرینا کی رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے بعد 3 ہزار 800 سے زائد رہائشیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی مرینا میں ایک بلند و بالا رہائشی اور کمرشل ٹاور کی بالائی منزل سے آگ بھڑک اٹھی، 49ویں منزل پر رہائش پذیر ایک رہائشی نے بتایا کہ میں اپنے کمرے میں آنے والی تیز دھواں کی بو کے بعد نیند سے بیدار ہوا تو میں نے اپنے گھر کے ساتھیوں کو مجھے پکارتے ہوئے سنا اور ہم جلدی سے عمارت سے نیچے چلے گئے، جب ہم نیچے تو ہم نے اوپر ممکنہ طور پر 60 ویں یا اس سے بھی اوپر والی منزل سے گہرا دھواں اٹھتا دیکھا۔

بتایا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کے متعدد ٹرک اور ایمبولینس کو فوری طور پر علاقے میں تعینات کیا گیا، فائر فائٹرز 67 منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کو شروع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بھی بجھا رہے تھے، خصوصی ٹیموں نے آپریشن کے دوران شہریوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے 67 منزلہ عمارت سے تمام رہائشیوں کو کامیابی کے ساتھ باہر نکالا، آگ پر مکمل طور پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، ایمبولینس ٹیمیں اور طبی عملہ بحفاظت نکالے گئے رہائشیوں کو مکمل طبی مدد فراہم کرنے کے لیے سائٹ پر موجود رہے، خصوصی یونٹوں نے مرینا پنیکل کے 764 اپارٹمنٹس سے تمام 3 ہزار 820 رہائشیوں کو بحفاظت بغیر کسی چوٹ کے نکال لیا۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں تھا جب مرینا پنیکل میں آگ لگی، اس سے پہلے 25 مئی 2015 کو فلک بوس عمارت کی 47 ویں منزل پر ایک رہائشی کے کچن میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی، عمارت کی 47ویں منزل پر واقع ایک اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ 48ویں منزل تک پھیلی جس کے بعد دبئی سول ڈیفنس نے اس پر قابو پالیا تھا، علاوہ ازیں ایک اور اسکائی اسکریپر میں 2015ء اور 2017ء میں دو بار آگ لگی تھی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رہائشیوں کو

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی