UrduPoint:
2026-06-03@05:23:16 GMT

دبئی کی بلند و بالا رہائشی عمارت میں آتشزدگی

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

دبئی کی بلند و بالا رہائشی عمارت میں آتشزدگی

دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون 2025ء ) دبئی مرینا کی رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے بعد 3 ہزار 800 سے زائد رہائشیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی مرینا میں ایک بلند و بالا رہائشی اور کمرشل ٹاور کی بالائی منزل سے آگ بھڑک اٹھی، 49ویں منزل پر رہائش پذیر ایک رہائشی نے بتایا کہ میں اپنے کمرے میں آنے والی تیز دھواں کی بو کے بعد نیند سے بیدار ہوا تو میں نے اپنے گھر کے ساتھیوں کو مجھے پکارتے ہوئے سنا اور ہم جلدی سے عمارت سے نیچے چلے گئے، جب ہم نیچے تو ہم نے اوپر ممکنہ طور پر 60 ویں یا اس سے بھی اوپر والی منزل سے گہرا دھواں اٹھتا دیکھا۔

بتایا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کے متعدد ٹرک اور ایمبولینس کو فوری طور پر علاقے میں تعینات کیا گیا، فائر فائٹرز 67 منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کو شروع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بھی بجھا رہے تھے، خصوصی ٹیموں نے آپریشن کے دوران شہریوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے 67 منزلہ عمارت سے تمام رہائشیوں کو کامیابی کے ساتھ باہر نکالا، آگ پر مکمل طور پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، ایمبولینس ٹیمیں اور طبی عملہ بحفاظت نکالے گئے رہائشیوں کو مکمل طبی مدد فراہم کرنے کے لیے سائٹ پر موجود رہے، خصوصی یونٹوں نے مرینا پنیکل کے 764 اپارٹمنٹس سے تمام 3 ہزار 820 رہائشیوں کو بحفاظت بغیر کسی چوٹ کے نکال لیا۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں تھا جب مرینا پنیکل میں آگ لگی، اس سے پہلے 25 مئی 2015 کو فلک بوس عمارت کی 47 ویں منزل پر ایک رہائشی کے کچن میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی، عمارت کی 47ویں منزل پر واقع ایک اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ 48ویں منزل تک پھیلی جس کے بعد دبئی سول ڈیفنس نے اس پر قابو پالیا تھا، علاوہ ازیں ایک اور اسکائی اسکریپر میں 2015ء اور 2017ء میں دو بار آگ لگی تھی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رہائشیوں کو

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور