ایران کا اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ، 3 اسرائیلی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر میزائلوں سے حیفہ اور تل ابیب کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل پر بدر اور عماد میزائل بھی داغے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے ایک دفعہ پھر اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر 100میزائل اور متعدد ڈرونز سے نیا حملہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل اور ساحلی شہر حیفہ میں میزائل گرے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے بتایاکہ میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر میزائلوں سے حیفہ اور تل ابیب کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل پر بدر اور عماد میزائل بھی داغے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی حیفہ اورتامرا بستی میں ایرانی میزائل گرنے کی تصدیق کی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل میں ایرانی حملوں میں ایک خاتون سمیت 3 اسرائیلی ہلاک ہوگئی جبکہ 14 زخمی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق میزائلوں حملوں کے سائرن بجنے کے بعد اسرائیلی شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایات دی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا اسرائیل پر
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔