---فائل فوٹو 

سندھ اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف علی خورشیدی نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ان سے ملنے کےلیے کسی کے ذریعے پیغام بھجوایا تھا۔

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے وزیراعلیٰ سندھ کا بیان مسترد کیا اور کہا کہ 29 مئی کو وزیرِاعلیٰ سندھ کو ایک پیغام بھیجا مگر کوئی جواب نہیں آیا جس کے بعد بجٹ سے پہلے ناصر شاہ نے خود فون کر کے انہیں بلایا تھا۔

اس سے قبل سابق اپوزیشن لیڈر اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس لگانے کے سوا کسی مسئلے کا حل نہیں بتایا گیا، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے زراعت کے شعبے پر ٹیکس لگا کر تباہ و برباد کر دیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت بجلی دے نہیں سکتی، عوام نے سولر لگائے، انہوں نے 18 فیصد جی ایس ٹی لگادیا، الیکٹرک گاڑیاں لانے کےلیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگائی گئی ہے۔

علی خورشیدی نے اپنے مزید کہا کہ دنیا میں بلاول بھٹو کا تعارف بہترین پارلیمنٹیرین، سفارتکار اور سیاستدان کے طور پر ہو رہا ہے، بلاول بھٹو نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی خورشیدی نے

پڑھیں:

نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔

سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول  کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی  نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں  کر سکتی۔

آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا