یکساں قومی نصاب کی موجودہ شکل کو مسترد کرتے ہیں، فی الفور واپس لیا جائے، مجلس وحدت مسلمین
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کانفرنس کے دوران برادر ہمسایہ اسلامی ملک، اسلامی جمہوریہ ایران پر غاصب اور دہشتگرد ریاست اسرائیل کی حالیہ جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور فلسطین اور ایران کے مظلوم عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی نصاب تعلیم کونسل کے زیراہتمام المصطفیٰ ہاوس لاہور میں صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت کنویئنر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی۔ کانفرنس میں ممتاز علماء کرام، ماہرین تعلیم، پروفیسرز، اساتذہ، خطباء، مدارس دینیہ کے اساتذہ، وکلاء، تنظیمی نمائندگان اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں موجودہ متنازعہ نصاب تعلیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہلِ تشیع، اہلسنت اور محبانِ اہلبیتؑ کے تحفظات کو واضح کرتے ہوئے اصلاحِ نصاب کیلئے متفقہ سفارشات بھی پیش کی گئیں، تاکہ یکساں قومی نصاب کو تمام مکاتب فکر کیلئے قابلِ قبول اور متوازن بنایا جا سکے۔
کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ جانبدارانہ طرز عمل نہ صرف مذہبی امتیاز بلکہ فرقہ واریت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ یکساں قومی نصاب کی موجودہ شکل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ متنازعہ نصاب تکفیری سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور یہ دین اسلام کی متفقہ تعلیمات اور ملت جعفریہ کے عقائد و نظریات کیخلاف ہے۔ کانفرنس کے دوران برادر ہمسایہ اسلامی ملک، اسلامی جمہوریہ ایران پر غاصب اور دہشتگرد ریاست اسرائیل کی حالیہ جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور فلسطین اور ایران کے مظلوم عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ پریس بریفنگ میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے گذشہ ماہِ محرم میں عزادارانِ امام حسین علیہ السلام کی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری کیخلاف پنجاب کے متعدد مقامات میں قائم کیے گئے بلاجواز غیرآئینی متعصبانہ مقدمات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ آنیوالے ایامِ عزا کے دوران عزادارانِ امام حسینؑ، بانیانِ مجالس و جلوس کیساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائے اور مذہبی آزادی کا احترام کرتے ہوئے ان کیخلاف کسی بھی قسم کے غیرآئینی و غیرقانونی اقدامات سے باز رہے۔ نصاب تعلیم کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے صدر علامہ علی اکبر کاظمی، سابق وفاقی وزیر تعلیم اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین منیر حسین گیلانی، امامیہ آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین لعل مہدی خان، آئی ایس او سنٹرل پنجاب ریجن کے صدر ارتضیٰ باقر، ماہر تعلیم سجاد رضوی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، مولانا حسن رضا ہمدانی، مولانا غلام مصطفی علوی، مولانا سلمان نقوی، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما مولانا ظہیر الحسن کربلائی اور دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نصاب پر ملت جعفریہ کے تحفظات کو دور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے جو پاکستان کے تمام طبقات کو منظور ہو۔ کسی ایک مکتبہ فکر کے نظریات اور عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس میں مختلف قراردادوں کی منظوری دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ پاکستان کثیر المذاہب اور کثیر المکاتب اسلامی ریاست ہے، جہاں آئین پاکستان تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ تعلیم ایک قومی فریضہ ہے، جو نہ صرف علم کی ترویج بلکہ قومی وحدت و ہم آہنگی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس حالیہ برسوں میں جو یکساں قومی نصاب متعارف کرایا گیا ہے، وہ ایک مخصوص مکتب فکر کی ترجمانی کرتا ہے اور دوسرے مکاتب فکر بالخصوص ملت جعفریہ کے عقائد، آئمہ اہلبیتؑ، اور ان کے علمی و روحانی مقام کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔ اس لئے حکومت پاکستان، وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی وزارتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ موجودہ نصاب تعلیم کو فی الفور واپس لیا جائے۔ تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کیساتھ نئی نصاب ساز کمیٹی قائم کی جائے۔ نصاب میں آئمہ اہل بیتؑ، حضرت فاطمہ زہراؑ، کربلا کے شہداء کے حالات زندگی اور صحیفہ سجادیہ اور دعائے کمیل جیسی اہم علمی و روحانی روایات کو شامل کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ درود ابراہیمی کو مکمل اور مستند الفاظ کیساتھ شامل کیا جائے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ نصاب میں موجود تکفیری، نفرت انگیز اور جانبدارانہ مواد کو فی الفور نکالا جائے۔ کانفرنس نے دو ٹوک الفاظ میں باور کروایا کہ ملت جعفریہ پاکستان کا ایک پرامن، باشعور اور آئینی طور پر برابر کا شہری حصہ ہے۔ ان کے عقائد، دینیات اور تشخص کو پامال کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکائے کانفرنس نے تمام مکاتب فکر، صحافتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ نصاب تعلیم میں اس تعصب کیخلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس قرارداد کو جلد وفاقی اور صوبائی حکومتوں، وزارت تعلیم اور نصاب ساز اداروں تک پہنچائیں گے اور اگر مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جس میں آئینی اور جمہوری احتجاج بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکساں قومی نصاب نصاب تعلیم کا کانفرنس میں ملت جعفریہ مطالبہ کیا کیا گیا کہ کرتے ہوئے مکاتب فکر کیا جائے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔