میڈیا سے گفتگو کے دوران میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں آج بھی پاکستان بھر سے لوگ آتے ہیں، وہ اس لیے آتے ہیں کہ انہیں روزگار ملتا ہے اور آگے بڑھنے کی امید ہوتی ہے، شہر کے لوگوں پر کسی نے بندوق نہیں رکھی ہوئی کہ زبردستی اس شہر میں رہو، یہ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے لہٰذا یہاں مسائل ضرور ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے برطانوی اخبار دی اکانومسٹ کے گوبل سروے پر اپنے ردعمل کا اظہار کر دیا جس میں شہر قائد کو رہائش کیلیے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار دیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے گوبل سروے کا حوالہ دے کر سوال کیا تو میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی اگر اتنا برا ہوتا تو یہاں 3 کروڑ لوگ نہ رہتے، 3 کروڑ والے شہر کا موازنہ 100 لوگوں کے سروے سے نہیں کیا جا سکتا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بہتر زندگی کیلیے آج بھی لوگ کراچی کا رخ کر رہے ہیں، شہر قائد دنیا کے چھ بڑے شہروں میں شامل ہے، میرا شہر شاندار تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آج بھی پاکستان بھر سے لوگ آتے ہیں، وہ اس لیے آتے ہیں کہ انہیں روزگار ملتا ہے اور آگے بڑھنے کی امید ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے لوگوں پر کسی نے بندوق نہیں رکھی ہوئی کہ زبردستی اس شہر میں رہو، یہ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے لہٰذا یہاں مسائل ضرور ہیں۔

میئر کرچی نے کہا کہ شہر کو درپیش مسائل ہم خود حل کریں گے، پتا نہیں انڈیکس میں کیا دیکھ کر شہر کو نیچے رکھا گیا، اپنے وسائل میں عوام کو سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ دی اکانومسٹ نے گلوبل سروے میں کہا کہ کراچی رہائش کیلیے دنیا کا چوتھا بدترین شہر ہے، دنیا کے ایک سو تہتر شہروں میں اس کا ایک سو ستر نمبر ہے۔ سروے میں شہر صرف ڈھاکا، طرابلس اور دمشق سے کچھ ہی بہتر ہے، انڈیکس میں کراچی کا اسکور سو میں سے بیالیس تھا۔ یہ واحد پاکستانی شہر ہے جو اس فہرست میں شامل کیا گیا جبکہ کوپن ہیگن کو رہنے کے قابل شہروں میں سرفہرست قرار دیا گیا، سروے صحت، انفرااسٹرکچر، تعلیم، ماحول اور استحکام کی بنیاد پر کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ کراچی نے کہا کہ آتے ہیں دنیا کے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف