کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران خود اپنے بچوں کو انگلینڈ بھیج کر انگریزی تعلیم دلواتے ہیں، جبکہ عوام کو انگریزی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کہ "ایسا وقت دور نہیں جب بھارت میں انگریزی بولنے والوں کو شرم آئے گی"، کے ایک دن بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران خود اپنے بچوں کو انگلینڈ بھیج کر انگریزی تعلیم دلواتے ہیں، جبکہ عوام کو انگریزی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویڈیو میں راہل گاندھی کہتے ہیں کہ اگر آپ کو انگریزی آتی ہے تو آپ امریکہ جا سکتے ہیں، جاپان جا سکتے ہیں اور دنیا میں کہیں بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، وہ بی جے پی و آر ایس ایس نہیں چاہتے کہ آپ انگریزی سیکھ کر بہتر ملازمت حاصل کریں، یا دنیا سے مقابلہ کر سکیں۔ راہل گاندھی نے اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھا کہ انگریزی باندھ نہیں، پُل ہے۔ انگریزی شرم نہیں، طاقت ہے۔ انگریزی زنجیر نہیں، زنجیریں توڑنے کا اوزار ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نہیں چاہتے کہ ہندوستان کا غریب بچہ انگریزی سیکھے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ آپ سوال پوچھیں، آگے بڑھیں اور برابری کریں۔ راہل گاندھی کے مطابق آج کی دنیا میں انگریزی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ اپنی مادری زبان، کیونکہ یہ روزگار اور خود اعتمادی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی ہر زبان میں روح، ثقافت اور علم ہے اور ہمیں انہیں محفوظ رکھنا ہے، لیکن ساتھ ہی ہر بچے کو انگریزی سکھانی بھی ضروری ہے تاکہ وہ دنیا سے مقابلہ کر سکے۔ اس سے ایک روز قبل امت شاہ نے ایک سرکاری تقریب میں کہا تھا کہ جلد وہ وقت آئے گا جب انگریزی بولنے والے خود شرمندہ ہوں گے۔ امت شاہ کے مطابق کسی غیر ملکی زبان میں ہم نہ تو اپنا مذہب سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تاریخ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غیر ملکی زبان کے سہارے ہم مکمل ہندوستان کی تعمیر کا تصور نہیں کر سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بی جے پی اور آر ایس ایس راہل گاندھی نے کو انگریزی سکتے ہیں

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف