Express News:
2026-07-24@05:18:59 GMT

کیا یہودی امریکا کے وفادار ہو سکتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

ایران بلاشبہ اسرائیلی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کررہا ہے اور وہ نہ صرف یہ باور کرا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ کوئی دوسرا بھی اس جیسی طاقت کا حامل ہے۔ ایران کو اگر قصور وار مانا جا رہا ہے تو اس کا صرف اتنا ہی تو قصور ہے کہ وہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے جدوجہد کررہا ہے مگر مغربی ممالک ایران کی اس جدوجہد کو اپنے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ ایران نے اگر ایٹم بم بنا لیا تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

حالانکہ اسرائیل عربوں کی سرزمین پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو حال ہی میں گریٹر اسرائیل کے نقشے کی تشہیرکرچکا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی 1967 کی جنگ میں اردن، شام اور مصر کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا تھا، البتہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت اس نے مصر کے سینائی کے علاقے کو خالی کر دیا تھا جب کہ اردن اور شام کے علاقے اب بھی اس کے قبضے میں ہیں۔

اس وقت اسرائیل غزہ پر مستقل قبضہ کرنے کے لیے وہاں کی آبادی کی تقریباً دو سال سے مسلسل نسل کشی کر رہا ہے۔ تمام عرب ممالک اس اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ امریکا بھی ان کی نہیں سن رہا، البتہ صدر ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے مگر نیتن یاہو اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کبھی شام پر حملے شروع کردیتا ہے اور کبھی فلسطین کے مغربی کنارے پر بمباری کرنے لگتا ہے، اب اس نے ایران پر باقاعدہ حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی ہے۔

یہ جنگ کتنی طویل ہوگی، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ایران اسرائیل سے کم طاقت میں نہیں ہے۔ اسرائیلی حملوں میں ایران کے کئی اہم فوجی اور نیوکلیئر سائنسدان شہید ہوگئے ہیں، اسرائیل کی بمباری سے ایران میں کافی جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ایران کے اہم فوجی و ایٹمی سائنسدانوں کو شہید کیے جانے کے بارے میں اب انکشافات ہو رہے ہیں کہ انھیں ایران میں موجود موساد کے دہشت گردوں نے ان کے گھروں پر حملے کرکے شہید کیا تھا۔

دراصل موساد نے اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے سے بہت پہلے وہاں اپنا اڈہ قائم کر لیا تھا اور وہاں سے ایران کے اندر اپنی خونخوار کارروائیاں کر رہا تھا۔ لگتا ہے حماس کے سربراہ کو قتل اور صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو بھی ان ہی نے گرا کر انھیں اور ان کے ساتھ سفر کر رہے، کئی اہم ایرانی شخصیات کو شہید کر دیا تھا۔ ایران میں اب ان اسرائیلی جاسوسوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کئی کو گرفتار کر کے سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ ایران کے بھارت سے دوستانہ تعلقات ضرور ہیں مگر بھارت کے اسرائیل سے ایران سے کہیں زیادہ بڑھ کر تعلقات ہیں، بھارت نے اسرائیل سے کئی خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں جن کے تحت وہ اسرائیل کی ہر طرح مدد کرنے کا پابند ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں ایران کی خفیہ معلومات اسرائیل کو پہچانا بھی بھارت کی ذمے داری ہو۔

مودی کی ہندوتوا حکومت صرف پاکستان کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہ ہر مسلم ملک کے خلاف ہے ۔ ایک مسلم ملک میں موجود بھارتی آئی ٹی انجینئر جو وہاں اہم سب میرین پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے، اس پروجیکٹ کی اہم معلومات اور دستاویزات اسرائیل کو شیئر کر رہے تھے۔

مسلم ملک کی خفیہ ایجنسی نے انھیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ انھیں کئی ماہ تک جیل میں رکھا گیا، مقدمہ عدالت میں چلا، جہاں تمام بھارتی انجینئرز کوسخت سزا سنائی گئی مگر مودی نے اپنے اسرائیل نواز مغربی آقاؤں کی مدد سے تمام بھارتیوں کو آزاد کرا لیا تھا۔ اگر اسی طرح بھارتی ایران میں کچھ اہم پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں تو وہ اصل میں مودی کی ہدایت کے مطابق اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کا جال بھارت نے بچھا رکھا ہے، اس کا ثبوتکلبھوشن ہے۔ جو پاکستان میں دہشت گردی کی نگرانی کر رہا تھا مگر پاکستان نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ اب بھی پاکستان میں مغربی سرحد سے جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس میں مسلم ہمسایہ ممالک کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان خوفناک جنگ جاری ہے جس میں اسرائیل کا کافی نقصان ہوا ہے۔

ایسے ماحول میں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک خاص بیان دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ جب ایران تل ابیب پر حملہ کر سکتا ہے تو وہ واشنگٹن پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس نے اپنے اس منافقانہ بیان سے امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسانے کی کوشش کی ہے جب کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے سے دور رہنا چاہتے ہیں بلکہ وہ تو ایران اور اسرائیل کی جنگ کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔ تاہم عالمی تجزیہ کار نیتن یاہو کے بیان کو امریکا کو ایران پر حملہ کرنے یا اس جنگ میں ملوث ہونے کی دعوت دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسرائیل امریکا کو کیوں اپنی جنگ میں پھنسانا چاہتا ہے؟ اس سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ یہودیوں کو برطانیہ، فرانس اور امریکا کی بدولت ہی مشرق وسطیٰ میں اپنی ریاست بنانے میں کامیابی ملی تھی۔ انھی ممالک نے یہودیوں کو ہٹلر کے ظلم و ستم سے بچایا تھا ۔

یہودی اپنے مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، انھیں امریکا سے اپنے مفاد کی حد تک ہی دلچسپی ہے، وہ امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ میں جھونک کر اپنی تباہی کو روکنا چاہتے ہیں، انھیں امریکا کے تباہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا سے امریکا اور مغربی یورپ کا غلبہ ختم ہو جائے اور یہودی دنیا پر غالب آجائیں۔ اس سلسلے میں ایک سی آئی اے کے سابق افسر فلپ جیرالڈی آج سے گیارہ سال قبل ہی خبردار کرچکے تھے کہ امریکا کا ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ہونا اسرائیلی سازش کا نتیجہ ہوگا۔

 یہ پیش گوئی آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو کے امریکا کو اپنی جنگ میں ملوث کرنے کے بیان سے صدر ٹرمپ اب کافی متاثر لگتے ہیں اور لگتا ہے اگر جنگ آگے بڑھی تو وہ بھی جنگ کا حصہ بن جائیں گے اور پھر آگے کیا ہوگا؟ اس کا فیصلہ حالات ہی کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے پر حملہ کر ایران میں نیتن یاہو امریکا کو چاہتے ہیں ایران کے ایران پر سکتا ہے کے خلاف لیا تھا رہے ہیں کرنے کے کر رہے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران