ایران پر امریکی حملہ، کیا پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ہر پاکستانی کو یہ ناگوار گزرتا ہے کہ ہماری ریاست کسی کی آلہ کار بن کر کام کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے لئے یہ سوال اہم نہیں کہ آگے چل کر امریکی و اسرائیلی حملوں کا عام مسلمان دنیا بھر میں جواب کیسے دیں گے اور مستقبل میں جب اسرائیل اپنا اگلا نشانہ پاکستان کو بنائے گا تو پاکستان کے دفاع کیلئے ہمسایہ ممالک کا رویّہ کیسا ہوگا؟ ہمیں اس سے بھی غرض نہیں کہ اُس وقت امریکہ پاکستان کی سیاسی و اخلاقی مدد کرے گا یا وہ بھی نہیں؟ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ ہم نے ایران کی 3 نیوکلیئر سائٹس پر کامیاب حملہ مکمل کرلیا ہے، امریکی طیاروں نے فردو، نظنز اور اصفہان میں نیوکلیئر پلانٹس کو نشانہ بنایا۔ او آئی سی میں شامل ممالک کی مدد کے بغیر امریکہ یہ حملہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ممالک تو سرِ عام اپنی بیٹیاں تک امریکہ و اسرائیل کو پیش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے لہذا ایران پر امریکی حملے نے عربوں کے بجائے سب سے زیادہ عجمیوں کو اور اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے عجمیوں میں سے بھی سب سے زیادہ پاکستانیوں کو پریشان کیا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ کیا پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا تھا؟ ایران پر امریکی حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکی شہری غیر محفوظ ضرور ہوگئے، مگر پاکستان کا تو نظریاتی تشخص، سفارتی توازن، اور جغرافیائی وقار خطرے میں پڑ گیا ہے۔پاکستانیوں کیلئے امریکہ صدر کا یہ اعلان انتہائی غیر معمولی نوعیت کا ہے کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طے ہوگیا ہے کہ افغان جنگ کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر منطقے میں امریکی شطرنج کے مہرے کا کردار ادا کرنا ہے، خدا کرے ایسا نہ ہو۔
ہماری نیک خواہشات پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ماضی میں پاکستان نے ہندوستان اور طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات امریکہ پر اعتماد کرکے ہی خراب کئے ہیں۔ یہ خراب تعلقات سب کے سامنے مسئلہ کشمیر اور آبی مسائل پر پاکستان کی شکست پر منتہج ہوئے۔ ابھی جون 2025ء میں ایک مرتبہ پھر پاکستان نے امریکہ پر اعتماد کرکے ایران اور چین کی نظروں میں بھی اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ اس صورتحال سے اشرافیہ تو مطمئن ہے لیکن عام پاکستانی پریشان ہیں چونکہ اب اس منطقے میں چاروں طرف سے پاکستان تنہا ہوکر فقط امریکہ کے رحم و کرم پر رہ گیا ہے۔ پاکستانی فیلڈ مارشل کے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد ایران پر امریکی حملے سے پاکستان کے بارے میں دنیا میں جو پیغام گیا ہے کیا اُس کے اثرات سے پاکستان کبھی نکل پائے گا؟
بعض لوگوں کے نزدیک امریکی جنگی طیاروں کے ایران پر حملہ کرنے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی لیکن پاکستان نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے درمیان اپنا جو وزن اور اعتماد کھویا ہے وہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس حملے سے پاکستان کا اعتماد، وقار اور علاقائی اہمیت مٹی میں مل گئی۔ ایران پر امریکی حملے نے پاکستان کے ایٹمی رعب، پلاننگ اور اسٹیٹجک کے لحاظ سے دنیا کی نظروں میں گرا دیا ہے۔ ہم نے ماضی میں بھارت اور طالبان سے اپنے تعلقات صرف امریکہ کی خوشنودی کے لیے خراب کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ کشمیر بچا، نہ پانی، نہ قومی وقار اور اب ایٹمی و عسکری طاقت ہونے کا رُعب بھی گیا۔ ملکی اقتصاد کے لحاظ سے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ امریکی جیت کی خاطر اپنی علاقائی اہمیّت کا سودا ایک تجارت ہے یا جوا؟
اس جوئے کی دوڑ میں امریکہ کا تازیانہ ہمیں بھارت، افغانستان، ایران اور چین سے بہت دور لے گیا ہے۔ اتنے دور کہ ہم صرف ہمسایہ ممالک سے دور نہیں ہوئے بلکہ اپنے عوام سے بھی بہت دور ہوگئے۔ ہم اپنے عوام سے اتنے دور نکل چکے ہیں کہ اب عنقریب آبی مسائل اور کشمیر کے ایشو پر ہمیں از سرِنو بھارت سے لڑوایا جائے گا۔ ہم بھارت سے لڑیں گے، ٹیکس مزید لگیں گے، مہنگائی مزید عروج پر جائے گی، لوگ فاقوں سے مریں گے، اوپر سے بھارت سرحدی علاقوں میں سول آبادیوں پر حملے کرے گا اور پاک فوج کے جوان اور سویلین دونوں شہید ہوں گے، اس کے بعد ہمیشہ کی طرح امریکہ اُن لوگوں کی کچھ مدد وغیرہ کرے گا جن کی وہ کرتا رہتا ہے، یوں ان مسائل میں الجھ کر لوگ ہمیشہ کی طرح ملکی مسائل بھول جائیں گے۔ ہمارے ہاں یہ نسخہ اگرچہ آزمودہ اور مجرب ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ کارگر بھی ہو۔ کشمیر کا مقدمہ ہو یا دریاؤں کا مستقبل، پاکستان کی کمزوری اب صرف جغرافیائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کے وقار اور قومی تشخص کا مسئلہ بھی بن گئی ہے۔
حالات سے لگ رہا ہے کہ اندرونِ خانہ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ فی الحال اپنے قومی تشخص کو ایک طرف رکھ کر امریکی و اسرائیلی تشخص اور عزت و وقار کی جنگ لڑی جائے۔ اب ایسی جنگوں کے ایک کونے کو بھارت سے جوڑ کر انہیں قوموں جنگوں کا ٹائٹل دے دینا ہی ہمارے ہاں عین سیاست ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ سیاست کی دنیا میں جب کوئی ریاست اپنے قومی و سیاسی نظریات سے دستبردار ہو جائے تو وہ دوسروں کے نظریاتی مفادات کیلئے اُن کی آلہ کار بن جاتی ہے۔ بہرحال ہر پاکستانی کو یہ ناگوار گزرتا ہے کہ ہماری ریاست کسی کی آلہ کار بن کر کام کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے لئے یہ سوال اہم نہیں کہ آگے چل کر امریکی و اسرائیلی حملوں کا عام مسلمان دنیا بھر میں جواب کیسے دیں گے اور مستقبل میں جب اسرائیل اپنا اگلا نشانہ پاکستان کو بنائے گا تو پاکستان کے دفاع کیلئے ہمسایہ ممالک کا رویّہ کیسا ہوگا؟ ہمیں اس سے بھی غرض نہیں کہ اُس وقت امریکہ پاکستان کی سیاسی و اخلاقی مدد کرے گا یا وہ بھی نہیں؟
ہم ایسے سوالات اس لئے نہیں سوچتے کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ سوچتے بھی ہوں لیکن وہ مطمئن ہوں کہ ایسے میں پاکستان کا ایٹم بم پاکستان کے کام آئے گا۔ ایسے سادہ دل یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کا ایٹم بمب آج بھی محفوط ہاتھوں میں ہے اور وہ ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں رہے گا لہذا اُس وقت بھی اُس کی حفاظت کی خاطر اُسے آج کی طرح محفوظ ہی رکھا جائے گا۔ وطنِ عزیز کیلئے سلامتی کی تمام تر دعاوں کے باوجود ہمیں صرف یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ جو قومیں دوسروں کی سوچ اور دوسروں کے فیصلوں کے تابع ہو جاتی ہیں، اُن کی اپنی شکل اور حُلیہ بگڑ جاتا ہے۔ ہمیں یہ کھٹکا اس لئے بھی لگا ہوا ہے کہ کیا پاکستان اتنا کمزور ہے کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کو اعتماد میں لیے بغیر تہران پر حملہ کر دیا؟ یا پھر ہمارے فیلڈ مارشل کو ٹرمپ نے بلا کر کھانا کھلایا اور پھر دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ پاکستان وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے؟ کیا ہماری ریاست اتنی نابالغ ہے کہ اس نے سوچنے اور فیصلے کرنے کا اختیار کسی اور کو سونپ رکھا ہے؟
پاکستان بلکہ دنیا کے ہر باشعور شخص کے نزدیک ایران پر امریکہ کا حملہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ یہ امریکہ کا انتخاب ہے اور امریکہ پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا انتخاب نہیں کر سکتا۔ اس حملے سے پہلے امریکہ کا پاکستان کو اعتماد میں لینا پاکستان کیلئے کتنی بداعتمادیوں کو جنم دے گا، اس سے امریکہ و اسرائیل کو کوئی غرض بھی نہیں۔ لہذا عقلا کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر مرض کا علاج ممکن ہے، مگر شرط یہ ہے کہ مریض کو اپنی بیماری کا ادراک ہو۔ بیماری صرف تشخیص سے ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ اس کا علاج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک آج بھی پاکستان کے تمام تر مسائل کے ذمہ دار سیاستدان ہیں لیکن صرف امریکی سیاستدان۔ یہ پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر کچھ کرتے ہی نہیں اور کچھ کر سکتے بھی نہیں، وہ چاہے افغانستان پر حملہ ہو یا ایران پر۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کو اعتماد میں ایران پر امریکی حملے پاکستان کی پاکستان نے سے پاکستان پاکستان کے پاکستان کا کہ پاکستان امریکہ کا بھی نہیں یہ ممالک ہے کہ ہم پر حملہ نہیں کہ سے بھی کے بعد ہیں کہ کرے گا گیا ہے
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ