اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف اپنے تمام مقاصد بلکہ ان سے بھی زیادہ کچھ حاصل کرچکا، اب ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا اس سلسلے میں باضابطہ بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز سے متفق ہیں۔ تاہم اسرائیل  جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے  اپنے ایک بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن رائزنگ لائن (Operation Rising Lion) اپنے تمام مقاصد حاصل کر چکا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

یہ بھی پڑھیے ایران اور اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہوگئے، صدر ٹرمپ کا اعلان

سرکاری بیان کے مطابق، نیتن یاہو نے گزشتہ شب اپنے کابینہ اراکین، وزیر دفاع اور موساد کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی جس میں انہیں آپریشن کی کامیابی سے آگاہ کیا گیا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے بیک وقت 2 فوری خطرات، جوہری اور بیلسٹک میزائل میدانوں، کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران کی فضاؤں پر مکمل فضائی کنٹرول حاصل کر لیا تھا، ایرانی عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچایا، اور ایرانی حکومت کے درجنوں مرکزی اہداف کو تباہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ’آپریشن کے مقاصد کے مکمل حصول اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مکمل مشاورت کے بعد، اسرائیل نے ان کی جانب سے پیش کی گئی دو طرفہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی تجویز نیتن یاہو

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان