کونمنگ(شِنہوا)چین کے جنوب مغربی صوبہ یون نان کے دارالحکومت کونمنگ میں گزشتہ جمعرات کو 9 ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش کا آغاز ہوا، جس میں 73 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ نمائش میں پاکستانی مصنوعات کو چینی صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی تحریک ملی۔
نمائش کی انتظامی کمیٹی کے مطابق پاکستان نے جنوبی ایشیائی موضوعات پر مبنی 2 پویلینز میں 140 سٹالز لگائے جو بھارت کے برابر ہیں اور شریک ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالین، قیمتی پتھر اور زیورات چینی صارفین کے لئے متنوع انتخاب فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی نمائش کنندہ ریاض شہباز نے فرنیچر اور نفیس دستکاری کے مختلف نمونے نمائش میں پیش کئے۔ تقریب کے ثقافتی پہلو پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار ہم اپنی روایتی لکڑی کی دستکاری کونمنگ لائے ہیں تاکہ اپنی ثقافت کو متعارف کراسکیں۔
تاہم ریاض شہباز کے مقاصد صرف ثقافتی فروغ تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہاں ایسے گاہک ملیں جن کے ساتھ ہم تعاون کرسکیں یا آن لائن کمپنیاں جو چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں ہماری مدد کرسکیں۔
شہباز ریاض نے کہا کہ چین ایک بڑی مارکیٹ ہے اور ہم اسے دریافت کرنے کے خواہاں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ چین میں بہت زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے چینی منڈی میں داخل ہونے کی اپنی بھرپور خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے الفاظ اس یقین کو اجاگر کرتے ہیں جو پاکستانی نمائش کنندگان کے درمیان پایا جاتا ہے کہ چین کاروباری ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
ایکسپو میں ایک پاکستانی سٹال پر چینی خطاطی کا ایک منفرد نمونہ توجہ کا مرکز بنا۔ اس کے خالق ایک نوجوان پاکستانی فیصل سیف تھے، جنہوں نے فخر سے بتایا کہ اگرچہ وہ چینی زبان نہیں بولتے لیکن یہ تحریر انہوں نے خود لکھی۔
فیصل نے کہا کہ میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا کہ ہم چینیوں کے ساتھ اپنے تعلق کو کیسے بیان کرتے ہیں۔ ہم بھائی ہیں، تو میں نے کاغذ اٹھایا اور یہ لکھ دیا۔ ان کا یہ سادہ مگر دل سے کیا گیا عمل پاکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔
فیصل سیف ایکسپو میں پہلی بار شریک ہوئے ہیں اور انہوں نے چین میں اپنے تجربے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں یہاں نیا ہوں۔ لوگ مددگار ہیں اور یہاں کاروبار کرنا آسان ہے، جس سے ایکسپو کے خوش آئند ماحول اور کاروباری امکانات کی جھلک ملتی ہے۔
9 ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش پاکستانی نمائش کنندگان کے لئے نہ صرف اپنی مصنوعات اور ثقافت پیش کرنے کا پلیٹ فارم بنی ہے بلکہ وہ چینی مارکیٹ کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھی سرگرم ہیں۔ فیصل سیف اور ریاض شہباز جیسے نمائش کنندگان کی مثبت رائے اور بلند توقعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایسی نمائشیں پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستانی نمائش نمائش کنندگان کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے چین کے کے لئے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی