SWABI:

صوابی کے علاقے پنج پیر میں رکشہ اڈہ میں سواریاں بٹھانے پر تکرار کے دوران رکشہ ڈرائیور کی فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق اور دوسرا بھائی شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق تھانہ صوابی میں محمد زوہیب سکنہ پنج پیر ڈاؤم ونڈ نے زخمی حالت میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ رکشے کا ڈرائیور ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معمول کے مطابق پنج پیر رکشہ اڈہ میں سواریاں بٹھانے کے لیے اڈے میں موجود تھا کہ اس دوران اس کا 23 سالہ بھائی محمد شعیب اپنی بیوی کے ہمراہ کسی کام کی عرض سے پنج پیر آنے کے بعد واپس اپنے گھر ڈاؤم ونڈ جا رہا تھا۔

زخمی رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ اپنے بھائی اور بھابی کو رکشے میں بٹھا کر گھر لے جانے کے لیے رکشے کی طرف جا رہا تھا کہ اس دوران دوسرے رکشہ ڈرائیور حامد سکنہ پنج پیر ڈاؤم ونڈ نے آ کر دھوکے بازی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سواریاں بٹھانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے جواب دیا یہ سواریاں نہیں بلکہ میرا بھائی اور ان اہلیہ ہیں، دونوں کو اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں لیکن حامد نے طیش میں آ کر پستول نکالا اور ہم پر فائرنگ شروع کر دی جس کے تیجے میں ہم دونوں بھائی شدید زخمی ہو گئے جبکہ بھابی بال بال بچ گئی۔

ملزم کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے محمد شعیب بعد ازاں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔

پولیس نے رپورٹ میں قتل کی وجہ رکشے میں سواریاں بٹھانے پر زبانی تکرار بیان کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں سواریاں بٹھانے بتایا کہ پنج پیر

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق