سکھر: سیپکو کی زیادتی بڑھ گئیں، اووربلنگ معمول بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سیپکو کی زیادتیوں کا شکار اوور بلنگ اور بلاجواز ڈیٹیکشن سے نالاں سکھر کی تاجر برادری نے وزیر اعظم کو شکایتی خطوط ارسال کر دیے، انجمن تاجران نشتر روڈ کے صدر محمد عامر فاروقی ،جنرل سیکرٹری حاجی احسان ملک نے وزیر اعظم کو ارسال کردہ لیٹر میں سکھر میں سیپکو بجلی کے بلوں میں بلاجواز ڈیٹیکشن اور اوور ریڈنگ کے خلاف فوری کارروائی کی درخواست کی ھے، کہا گیا ھے کہ سکھر میں گھریلو بجلی کے صارفین کے ساتھ SEPCO (سکھر الیکٹرک پاور کمپنی) کے ہاتھوں ہونے والی سنگین ناانصافی پر توجہ دی جائے، سیپکو نے ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو کنکشنز پر بلاجواز ڈیٹیکشن شروع کر دی ہیں۔ مئی کے مہینے میں، ایسے ہر صارف سے ڈیٹیکشن وصول کی گئی۔ 3,000 روپے سے 5,600 روپے تک۔ ہر کنکشن پر 5600 ڈیٹیکشن عائد کی گئی ہے۔ شکایات درج کرانے پر، اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے، صارفین کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ ڈیٹیکشن (200 یونٹ سے کم) استعمال کرنے کی وجہ سے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔