نیپرا کا سیپکو اور حیسکو پر ساڑھے 9 کروڑ کا جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
— فائل فوٹو
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سیپکو اور حیسکو پر مجموعی طور پر ساڑھے 9 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کر دیے۔
نیپرا نے سیپکو اور حیسکو پر نقصانات کم نہ کرنے اور ریکوری میں بہتری نہ لانے پر جرمانے عائد کیے ہیں۔ پولز کی ارتھنگ اور حفاظتی معیارات سے متعلق عملدرآمد نہ کرنے پر بھی جرمانہ لگائے گئے ہیں۔
نیپرا نے 4 مختلف فیصلوں پر سیپکو اور حیسکو کے چیف ایگزیکٹیو افسرز کو احکامات بھجوا دیے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیپرا نے سیپکو پر 3 مختلف فیصلوں کے تحت 7 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔
اسلام آباد رواں ماہ جون کے آخر تک قوم کو ایک اور.
نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ حیسکو پر 24- 2023ء میں نقصانات کم نہ کرنے، ریکوری میں بہتری لانے میں ناکامی پر 2.5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ سیپکو پر نقصانات کم نہ کرنے، ریکوری میں بہتری لانے میں ناکامی پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سیپکو پر 1 کروڑ روپے کا جرمانہ حفاظتی معیارات سے متعلق عملدرآمد میں ناکامی اور 1 کروڑ روپے کا جرمانہ پولز کی ارتھنگ میں ناکامی پر لگایا گیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سیپکو اور حیسکو 15 روز میں جرمانے کی رقم نامزد کردہ بینک میں جمع کرائیں۔
حکم نامے کے مطابق سیپکو اور حیسکو شوکاز نوٹسز کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے جبکہ سیپکو نیپرا قوانین پر عمل درآمد کرانے میں بھی ناکام رہا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سیپکو اپنے انتظامی علاقے میں 100 فیصد پولز کی ارتھنگ کرنے سے متعلق ناکام رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کروڑ روپے کا جرمانہ سیپکو اور حیسکو میں ناکامی نیپرا نے حیسکو پر گیا ہے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔