روس کا واٹس ایپ اور ٹیلی گرام سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
روس نے حال ہی میں اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط کرنے کی غرض سے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے متبادل ایک سرکاری میسجنگ ایپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے
اس ایپ کا مقصد ڈیجیٹل خودمختاری کو فروغ دینا ہے خاص طور پر 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے جب مغربی ٹیک فرموں کا روسی مارکیٹ سے انخلا شروع ہوا۔
علاوہ ازیں اس نئی ایپ کو Gosuslugi جیسے سرکاری پورٹلز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ صارفین اپنی ڈیجیٹل آئی ڈی، شناختی دستاویزات آن لائن سروسز اور دستخط ایک جگہ پر محفوظ کر سکیں۔
حکومتی پالیسیوں کیخلاف ناقدین جیسے میخائل کلیماریو، نے خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر انحصار کم کرنے جیسے اقدامات سے صارفین کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ یہ نئی ایپ اپنائیں جس سے انفرادی پرائیویسی اور آزادیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
روسی ایوان زیریں نے متفقہ طور پر ایپ تیار کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب یہ ایوانِ بالا میں جائے گا اور پھر صدر کی جانب سے حتمی منظوری دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔