محرم الحرام کے دوران بلوچستان کے 8 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
محکمہ داخلہ نے ایک سے دس محرم تک امن و امان قائم رکھنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کیا ہے۔ اس دوران ڈبل سواری، اسلحہ کی نمائش سمیت متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ سمیت آٹھ اضلار میں دفعہ 144 نافذ دیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق یہ پابندیاں یکم محرم سے 10 محرم الحرام تک نافذ العمل رہیں گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلحے کی نمائش و نقل و حرکت، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، نفرت انگیز مواد و رسالے کی تقسیم و فروخت، جلوسوں کے راستوں پر مشکوک افراد کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ جلوسوں و مجالس کے علاوہ پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات اور بغیر اجازت دکانیں اور مکانات کرایے پر دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔