Jang News:
2026-06-03@06:32:09 GMT

مفتاح اسماعیل کی معلومات ادھوری ہیں، سیدہ تحسین عابدی

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

مفتاح اسماعیل کی معلومات ادھوری ہیں، سیدہ تحسین عابدی

سندھ حکومت کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کی معلومات ادھوری ہیں، سندھ کا حالیہ تعلیمی بجٹ 519 ارب کا ہے۔

ایک بیان میں سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ مفتاح صاحب، تعلیم کا برا حال تب تھا جب فیصلے اشتہاروں سے ہوتے تھے، سندھ میں 1600 اسکولوں کی مرمت، 200 سے زائد ماڈل اسکول بنائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کا 2025ء میں 519 ارب کا تعلیمی بجٹ ہے، صوبائی حکومت نے تعلیم، صحت، پانی، انفرااسٹرکچر پر 2 ہزار ارب سے زائد خرچ کیے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مفتاح اسماعیل پہلے خود بتائیں، انہوں نے بطور وزیر کیا بہتری کی؟ سندھ حکومت نے قانون سازی، بلدیاتی نظام، اور رائٹ ٹو انفارمیشن جیسے اقدامات کیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے تھرپارکر میں پینے کے پانی کا انقلابی حل دیا، ہم نے خشک زمینوں کو پانی دیا، لوگوں کو بااختیار بنایا۔

سیدہ تحسین عابدی نے یہ بھی کہا کہ کراچی کی سڑکوں پر سوال اٹھانے سے پہلے کراچی کا دورہ کرلیں، ملیر ایکسپریس وے، نشتر روڈ، شاہراہ نورجہاں جیسے پروجیکٹ باتوں سے نہیں بنتے، جو عینک صرف تنقید کی دھند دیکھتی ہے، اسے کام کی روشنی نظر نہیں آتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود