مودی سرکار کا مسلم، پاکستان دشمنی میں ایک اور اقدام
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
بھارت کی نریندر مودی سرکاری نے مسلمانوں اور پاکستان کی دشمنی میں اور قدم اٹھالیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی نے اسلام، پاکستان اور چین کے حوالے سے کورسز ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جامعہ دہلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایم اے سیاسیات کے نصاب سے اسلام اور بین الاقوامی تعلقات، پاکستان اور دنیا، پاکستانی ریاست اور معاشرہ اور چین سے متعلق کورسز ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جامعہ کے وائس چانسلر نے نصاب کمیٹی سے پاکستان کی تعریف والے مواد کو ہٹانے کی سفارش بھی کی ہے، جامعہ کے فیکلٹی ارکان نے فیصلے کو سیاسی اقدام قرار دے دیا۔
فیصلے کی مخالفت کرنے والے فیکلٹی ارکان کا کہنا ہے کہ کورسز ختم کرنے کا فیصلہ نظریاتی سنسرشپ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔