معروف بھارتی اداکارہ شیفالی کی موت کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
معروف بھارتی اداکارہ شیفالی کی موت کی وجہ سامنے آگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 June, 2025 سب نیوز
ممبئی: معروف بھارتی اداکارہ اور ماڈل شیفالی جریوالا کا انتقال جمعہ کی رات اچانک ہوا، جب ان کو دل کا دورہ پڑا۔ شیفالی کی آخری رسومات ہفتہ کو ممبئی میں قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شیفالی کئی سالوں سے اینٹی ایجنگ ادویات کا استعمال کر رہی تھیں۔ ان کے گھر پر 27 جون کو ایک پوجا تھی، جس کی وجہ سے وہ روزہ رکھ رہی تھیں، مگر اس کے باوجود انہوں نے دوپہر میں اینٹی ایجنگ کا انجیکشن لگوایا۔ یہ ادویات انہیں کئی سال پہلے ڈاکٹر نے تجویز کی تھیں اور وہ یہ دوائیں یا انجیکشن ماہانہ بنیادوں پر لیتی آ رہی تھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ممکنہ طور پر انہی ادویات کی وجہ سے ان کو دل کا دورہ پڑا۔ 27 جون کی رات 10 سے 11 بجے کے درمیان ان کی حالت اچانک خراب ہوئی، جسم لرزنے لگا اور وہ بے ہوش ہو گئیں۔ ان کے شوہر پرگ تیگی، والدہ اور چند دیگر افراد اس وقت گھر پر موجود تھے جنہوں نے انہیں فوراً اسپتال لے جایا، لیکن وہ اسپتال پہنچتے ہی انتقال کر گئیں۔
تحقیقات میں گھر سے مختلف ادویات ضبط کی گئی ہیں جن میں اینٹی ایجنگ وائلز، وٹامن سپلیمنٹس اور معدے کی دوائیں شامل ہیں۔ پولیس نے خاندان کے افراد، گھریلو ملازمین اور ہسپتال کے ڈاکٹروں کے بیانات قلمبند کیے ہیں، اور ابھی تک کسی قسم کی لڑائی یا تنازعہ کے آثار نہیں ملے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید کارروائی پوسٹمارٹم رپورٹ اور لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد کی جائے گی۔ جوان دکھائی دینے کا جنون بعض اوقات مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
شیفالی جروالا نے 2002 میں گانے ’کانٹا لگا‘ سے شہرت حاصل کی تھی اور بعد میں فلم مجھ سے شادی کروگی اور ٹی وی رئیلیٹی شوز میں بھی حصہ لیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردبئی کے ولی عہد کھانا کھانے ریسٹورنٹ پہنچے اور جاتے ہوئے تمام افراد کا بل ادا کر کے سب کو حیران کر دیا ‘فلسطین کو آزاد کرو’ برطانیہ میں کنسرٹ کے دوران گلوکاروں نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل مخالف نعرے لگادیے چائنا میڈیا گروپ کی پروڈیوس کردہ فیچر فلم کی اطالوی مین اسٹریم میڈیا میں وسیع پزیرائی ستائیسویں شنگھائی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں گولڈن گوبلٹ ایوارڈز کا اعلان کر دیا گیا مردہ حالت میں پائی گئیں اداکارہ عائشہ خان کی لاش ایک ہفتہ پرانی ہے، پولیس کا انکشاف ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل؛ ملزم کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کراچی میں فلیٹ سے اداکارہ عائشہ خان کی ایک ہفتہ پرانی لاش برآمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی وجہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔