جامعہ نجف کے پرنسپل علامہ محمد علی توحیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے پاس جو ٹیکنالوجی ہے اس سے بہتر مسلمانوں کے پاس ہونی چاہئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر کے امریکہ و اسرائیل کو شکست دی۔ عالم کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے عالم اسلام کو ہر میدان میں مضبوط ہونا پڑے گا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

امریکہ و اسرائیل پر ایران کی عظیم فتح کی مناسبت سے جامعہ نجف سکردو میں تقریب کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر فتح کی مناسبت سے جامعۃ النجف سکردو میں جشن فتح المبین کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز قاری عرفان حیدر نے تلاوت کلام مجید سے کیا۔ طالب علم محمد افضل نے منقبت پیش کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استاد آغا سید محمد علی شاہ الحسینی نے کہا کہ تمام استکباری طاقتوں پر جمہوری اسلامی ایران کی واضح فتح بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ فقط ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر فتح نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی تمام استکباری طاقتوں پر فتح ہے۔ امریکہ و اسرائیل کو یہ گھمنڈ تھا کہ ان کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے لیکن جمہوری اسلامی ایران نے اپنی میزائیل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ معروف عالم دین اور مدرس شیخ سجاد حسین مفتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں تمام قبائل قریش نے مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ احزاب تشکیل دی تو اللہ کی مدد سے حضرت علی علیہ السلام نے انہیں شکست و ذلت میں مبتلا کیا، اسی طرح آج وقت کے علی نے تمام استکباری احزاب کو شکست و ذلت سے ہمکنار کیا۔

طالب علم عباس بسیجی اور مزمل حسین نے خوبصورت انداز میں ترانہ رہبری پیش کیا۔ جامعہ نجف کے پرنسپل علامہ محمد علی توحیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے پاس جو ٹیکنالوجی ہے اس سے بہتر مسلمانوں کے پاس ہونی چاہئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر کے امریکہ و اسرائیل کو شکست دی۔ عالم کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے عالم اسلام کو ہر میدان میں مضبوط ہونا پڑے گا۔انہوں نے رہبر معظم اور پوری ملت اسلامیہ کو فتح مبین کی مبارک باد دی۔ پروگرام کے آخر میں جامعۃ المصطفی کے زیر اہتمام منعقدہ علمی امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے مابین انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس پروگرام کی نظامت کے فرائض صدر انجمن طلاب "خدام المہدی" حسین بشیر سلطانی نے انجام دیئے۔ اس پروگرام کا اختتام دعائے امام زمانہ سے ہوا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے پاس کہا کہ

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم