عالمی سطح پر جاری اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں روس نے ایک غیر متوقع مگر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے اثرات وسطی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے پر بھی پڑ رہے ہیں، حالیہ دورہ ترکمانستان کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی۔

 اشک آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں طلبا سے خطاب کے دوران ان کا مرکزی نکتہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی تھی۔

ترکمانستان، جو ایران کے ساتھ 1100 کلومیٹر سے زائد سرحد رکھتا ہے اور جس کا دارالحکومت اس سرحد سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے، اس کشیدگی سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے، وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ انتہا پسند نیٹ ورکس کو بھی متحرک کر سکتے ہیں، جو خطے کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے نتائج ناقابل پیشگوئی ہوں گے، روس کا انتباہ

یہ خطرات دیگر جنوبی سابق سوویت ریاستوں تک بھی پھیل سکتے ہیں، جو روس کے ساتھ قریبی سیاسی و عسکری تعلقات رکھتی ہیں، ایسے پس منظر میں لاوروف کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کی اپیل کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ماسکو کے لیے ایران محض اتحادی نہیں بلکہ ایک ایسا تزویراتی شراکت دار ہے، جو روس کے جنوبی محاذ کو محفوظ بناتا ہے، تہران میں عدم استحکام وسطی ایشیا میں روسی اثرورسوخ کو کمزور کر سکتا ہے۔

سفارتی اشارے اور تزویراتی ترجیحات

رواں سال جنوری میں روس اور ایران نے ایک جامع تذویراتی شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے، جس سے دو طرفہ تعلقات کو باضابطہ شکل دی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے چند روز بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بعد ازاں اس دورے کو ’مکمل باہمی مفاہمت‘ پر مبنی قرار دیا اور روس کی حمایت کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: امریکا، اسرائیل نے ایران پر حملوں کے لیے آئی اے ای اے کی معلومات استعمال کیں، روس

روس، چین اور پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد بھی پیش کی، جس میں فوری جنگ بندی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی، روسی سفیر واسیلی نیبینزیا نے واضح کیا کہ اس قرارداد کا مقصد کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنا ہے۔

تاہم ماسکو نے عوامی بیانات میں احتیاط کا مظاہرہ کیا، سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں صدر پیوٹن نے اسرائیل کے خلاف کوئی سخت زبان استعمال کرنے سے گریز کیا اور فریقین کے لیے قابلِ قبول سفارتی حل پر زور دیا، یہ محتاط رویہ ظاہر کرتا ہے کہ روس ایک طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے اور دوسری جانب اسرائیل کے ساتھ بھی باقاعدہ سفارتی و عسکری رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

عباس عراقچی کا دورہ اور دفاعی پیشکش

13 جون کو جب اسرائیلی حملوں میں شدت آئی، روس نے فوری طور پر ان کی مذمت کی اور ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، صدر پیوٹن نے امریکی رویے کو ’بلا جواز جارحیت‘ قرار دیا۔

عباس عراقچی کے دورے سے کچھ دن قبل، صدر پیوٹن نے انکشاف کیا کہ روس نے ایران کو فضائی دفاعی نظام میں توسیعی تعاون کی پیشکش کی تھی، جسے ایران نے اس وقت قبول نہیں کیا، روسی مؤقف کے مطابق، اگر ایران یہ پیشکش پہلے قبول کر لیتا تو شاید وہ ان حملوں کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتا۔

ماسکو کے نزدیک سلامتی کا مطلب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی نتائج ہیں، اور وہ اپنے شراکت داروں سے بھی اسی طرزِ عمل کی توقع رکھتا ہے۔

معاہدے کی قانونی حدود

واضح رہے کہ 2025 میں طے پانے والے روس-ایران معاہدے میں کسی بھی قسم کی باہمی دفاعی ذمہ داری شامل نہیں ہے، یہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا معاہدہ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ روس کو ایران کی عسکری مدد پر مجبور کرتا ہے۔ صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ باہمی سیاسی اعتماد اور ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ جنگی تعاون کا ضامن ہے۔

معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ دونوں ممالک کسی تیسرے فریق کی اس صورت میں حمایت نہیں کریں گے، جب وہ دوسرے پر حملہ آور ہو، روس نے اس اصول پر عمل کرتے ہوئے، ایران سے اظہار یکجہتی کیا ہے لیکن براہ راست عسکری مداخلت سے گریز کیا ہے۔

پردے کے پیچھے سفارت کاری؟

وزیر خارجہ عراقچی کے ماسکو دورے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور ایران سے متعلق اپنا لہجہ نرم کر لیا، عباس عراقچی نے اپنے دورہ استنبول کے دوران کہا تھا کہ روس کے ساتھ بات چیت ’رسماً نہیں بلکہ تذویراتی‘ نوعیت کی ہے۔

امریکی رویے میں اس اچانک تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ماسکو نے خاموشی سے ثالثی کا کردار ادا کیا ہو، کیونکہ روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو تہران اور تل ابیب، دونوں کے ساتھ رابطے رکھتا ہے۔

خلاصہ

روس مشرق وسطیٰ میں ایک محتاط مگر بااثر کردار ادا کر رہا ہے، ماسکو پر یہ الزام کہ وہ ایران کا ساتھ نہیں دے رہا، سیاسی اور قانونی دونوں حوالوں سے غیر حقیقی ہے، روس جنگ کے بجائے سفارتی حکمت عملی، تعاون اور اثرورسوخ کو ترجیح دیتا ہے اور ایسی صورت حال میں جب الفاظ بھی ہتھیار بن جاتے ہیں، تو ماسکو کی پردہ نشین سفارت کاری بعض اوقات بند کمروں میں ہی نتائج پیدا کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استنبول اسرائیل اشک آباد امریکی صدر ایران تذویراتی ترکمانستان ڈونلڈ ٹرمپ روس سرگئی لاوروف عباس عراقچی کشیدگی وزیر خارجہ ولادیمیر پیوٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول اسرائیل امریکی صدر ایران تذویراتی ترکمانستان ڈونلڈ ٹرمپ سرگئی لاوروف عباس عراقچی کشیدگی ولادیمیر پیوٹن صدر پیوٹن نے عباس عراقچی کشیدگی میں اور ایران سکتے ہیں ہیں بلکہ کے ساتھ کے لیے کہ روس

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟