تصویر، جیو نیوز اسکرین گریب

دریائے سوات میں پھنسے خاندان کی مدد کے لیے ریسکیو 1122 کی پہلی گاڑی تقریباً 19 منٹ بعد پہنچی۔

اس معاملے کی سی سی ٹی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے۔

ریسکیو 1122 کی پہلی گاڑی تقریباً 19 منٹ بعد پہنچی لیکن ریسکیو اہلکاروں کے پاس پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے آلات اور دیگر سامان نہیں تھا، میڈیکل ایمبولینس میں صرف میڈیکل ٹیم تھی۔

ویڈیو میں ایمبولینس کے ساتھ واٹر وہیکلز، کشتیاں اور دیگر متعلقہ آلات نظر نہیں آئے۔

دریائے سوات میں بہہ جانے والے بچے کی لاش چارسدہ میں دریا سے مل گئی

دریائے سوات میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 12ہوگئی ہے۔

آج دریائے سوات کے ریلے میں ڈوبنے والے ایک اور بچے کی لاش نکال لی گئی ہے، بچے کی لاش چارسدہ میں دریا سے ملی جس کے بعد اب تک اس افسوس ناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 12 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ ایک بچے کی تلاش جاری ہے۔

دریائے سوات میں حادثہ جمعے کو پیش آیا تھا جس میں 17 افراد ڈوب گئے تھے، 4 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: دریائے سوات میں بچے کی

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا